خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 65
خطبات مسرور جلد نهم 65 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 فروری 2011ء صاحب، مولوی زینی دحلان صاحب اور حاجی محمود صاحب دینی تعلیم کے حاصل کرنے کے لئے سماٹر اسے ہند وستان آئے۔خدا کی تقدیر انہیں کلکتہ، لکھنو اور لاہور کے بعد قادیان کھینچ لائی۔اگست 1923ء میں یہ چاروں نوجوان قادیان میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی خدمت میں حاضر ہوئے اور یہ درخواست کی کہ ہماری دینی تعلیم و تربیت کا انتظام کیا جائے۔چنانچہ حضور رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کی درخواست قبول فرماتے ہوئے اُن کی تعلیم کا بندوبست فرمایا اور دورانِ تعلیم ہی ان پر احمدیت کی حقیقت و صداقت ظاہر ہوئی اور انہوں نے احمدیت قبول کر لی۔قادیان میں بیعت کرنے والے انڈو نیشین نوجوانوں نے بیعت کے بعد پھر احمدیت کے نور سے جلد اپنے ملک کو بھی منور کرنے کی کوشش کی۔وہیں بیٹھے بیٹھے قادیان سے ہی انہوں نے اپنے رشتے داروں کو تبلیغی خطوط لکھنے شروع کر دیئے اور اس طرح انڈو نیشیا میں تبلیغ کے لئے راہ ہموار ہونا شروع ہو گئی۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی جب 29 نومبر 1924ء کو یورپ کے دورے سے واپس گئے ہیں تو ایک استقبالیہ حضور کے اعزاز میں دیا گیا۔اس دعوت میں ان طلباء نے جو انڈونیشیا سے آئے تھے حضور سے یہ استدعا کی کہ حضور ! مشرق کے ان جزائر کی طرف بھی توجہ فرمائیں۔اُس وقت حضور نے وعدہ فرمایا کہ انشاء اللہ تعالیٰ میں خود یا میرا کوئی نمائندہ آپ کے ملک میں جائے گا۔چنانچہ حضرت خلیفہ ثانی نے حضرت مولوی رحمت علی صاحب کا انتخاب فرمایا اور آپ کو وہاں بھیجاجو سمندری جہاز کے راستے سفر کرتے ہوئے ستمبر 1925ء میں اس ملک میں پہنچے۔اور سب سے پہلے سماٹرا میں آچیہ کی ایک چھوٹی سی بستی ” تا پا تو آن (Tapatuan) میں وارد ہوئے۔وہاں کی تہذیب و معاشرت اور تھی۔زبان مختلف تھی۔غیر لوگ تھے۔اپنا جاننے والا بھی کوئی نہ تھا۔لیکن یہ تمام ابتدائی مراحل اور مشکلات حضرت مولوی صاحب کی ہمت اور ارادہ میں فرق نہ ڈال سکے اور زبان سیکھنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے انفرادی تبلیغ بھی شروع کر دی۔پھر علماء سے بحث مباحثے اور مناظرے بھی شروع ہو گئے۔حضرت مولوی صاحب کو خدا تعالیٰ نے اپنی تائید و نصرت سے نوازا اور چند ماہ میں ہی خدا تعالیٰ کے فضل سے انڈونیشیا کی پہلی جماعت قائم ہو گئی اور آٹھ افراد نے بیعت کی۔اس کے بعد مزید بیعتیں ہوتی چلی گئیں۔بہر حال ایک لمبی تفصیل ہے۔حضرت مولوی صاحب کو جیسا کہ میں نے کہا آغاز میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ایک زبان کا مسئلہ ، پھر مخالفتیں بھی شروع ہوئیں اور تہذیب وغیرہ مختلف تھی، تمدنی روایات مختلف تھیں۔بہر حال جیسا کہ میں نے بیان کیا کہ مولوی صاحب نے اس پر قابو پالیا۔علماء نے وہاں یہ فتویٰ دے دیا کہ احمدیوں کی کتب اور مضامین نہ پڑھے جائیں اور نہ ہی ان کے لیکچر سنے جائیں۔جب مقامی احمدیوں کی تعداد بڑھنے لگی تو وہاں کے لوگوں نے مقامی احمدیوں کا بائیکاٹ کرناشروع کر دیا حتی کہ اخبارات والے بھی کوئی خبر چھاپنے کے لئے تیار نہ تھے۔کوئی مضمون چھاپنے کے لئے تیار نہیں ہوتے تھے۔مخالفت اس حد تک بڑھ گئی کہ لوگوں کے تین تین ہزار کے مجمعے مولوی صاحب کی رہائش گاہ کے آگے کھڑے ہو کے نعرے بازی اور ہلڑ بازی کرتے تھے اور طرح طرح کے دل آزار نعرے لگاتے تھے اور گالیاں دیتے تھے۔بہر حال اس کے بعد پھر حاجی محمود صاحب بھی وہاں آگئے۔مولویوں نے کسی طرح زبر دستی اُن سے یہ