خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 63
63 خطبات مسرور جلد نهم خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 11 فروری 2011ء آکر پھر مختلف نشانیوں سے اُن لاشوں کو پہچانا۔ان لوگوں نے تو لاشوں کی بے حرمتی میں کفار کو بھی مات کر دیا تھا۔ہمارا دل ان کی حرکتوں پر جو ہمارے پیاروں کی شہادت اور اُن کی لاشوں سے بے حرمتی پر انہوں نے کیں، بے شک غمزدہ تو ہے اور بے قرار ہے لیکن سب سے بڑا ظلم جو ان لوگوں نے کیا، جیسا کہ میں نے پہلے کہا، وہ یہ ہے کہ یہ سب کچھ ہمارے آقا و مولیٰ اور محسن انسانیت اور رَحْمَةٌ لِلْلعلمین صلی علیم کے نام پر کیا گیا۔یہ اس قدر ظالمانہ کام تھا کہ ملکی اور غیر ملکی دونوں پر میں نے اس کی خبریں دی ہیں اور ویڈیو دکھانے سے اس لئے انکار کر دیا کہ یہ جو انسانیت سوز نظارے ہیں، جو مناظر ہیں، یہ ہم نہیں دکھا سکتے۔الجزیرہ چینل جو عموماً اس قسم کی خبریں دے دیتا ہے، اس حرکت پر تو اس نے بھی کانوں کو ہاتھ لگایا۔الجزیرہ نے اپنی خبر میں بتایا کہ یہ ایک خوفناک اور دردناک منظر تھا۔پولیس کھڑی تھی اور ایک جلوس احمدیوں کے گھروں پر حملہ آور تھا۔کہتا ہے پھر قتل و غارت شروع ہوتی ہے اور تین آدمیوں کو نگا کر کے پتھروں اور لاٹھیوں سے اور چاقوؤں اور نیزوں سے مارا گیا۔یہ کہتا ہے کہ اس کی جو فوشیح (Footage) بنائی گئی ہے ، جو تصویریں کھینچی گئی ہیں وہ ایسی نہیں کہ دکھائی جاسکیں۔ایشین ہیومن رائٹس کمیشن نے کہا ہے کہ احمدیوں کے خلاف جو یہ ظالمانہ کارروائی ہوئی ہے اس کو مقامی لوگ انڈو نیشین علماء کونسل کے فیصلہ کے مطابق صحیح سمجھتے ہیں۔مقامی لوگوں سے مراد وہ جو کرنے والے تھے۔یہ ہیں آج کل کے علماء جو آج سے ہزاروں سال پہلے کے جاہلانہ اور ظالمانہ کاموں کو اسلام کے نام پر کرنے کی مسلمانوں کو ترغیب دلا رہے ہیں۔The Economist ایک رسالہ ہے، اُس نے لکھا ہے کہ یہ ظلم مسلمانوں اور عیسائیوں کی لڑائی کی وجہ سے نہیں ہوا بلکہ مسلمان کہلانے والوں نے مسلمانوں کے ساتھ یہ سلوک کیا ہے۔پھر لکھ رلکھتا ہے کہ اگر کسی میں اس ظالمانہ عمل کی فلم دیکھنے کی طاقت ہو تو دیکھو گے کہ یہ ظالمانہ قتل و غارت گری بالکل مختلف قسم کی تھی جو آج کل کی تعلیم یافتہ اور مہذب دنیا سے بعید ہے۔پھر لکھتا ہے کہ جس نے دوسرے شہریوں کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے۔ہمارے بہت سارے احمدیوں نے بھی اس کی ویڈیو دیکھی ہے اور جس نے بھی دیکھی ہے مجھے یہی لکھا ہے کہ ایک آدھ منٹ سے زیادہ ہم دیکھ نہیں سکے۔ایک خاتون نے لکھا کہ میں نے بچوں سے چھپ کر دیکھی اور رونے لگی اور بچے پریشان تھے کہ کیا وجہ ہے ؟ ہماری ماں کیوں رورہی ہے ؟ اسی طرح ایک الجیرین احمدی میرے پاس آئے اور ذکر کرتے ہی دھاڑیں مار مار کر رونے لگ گئے۔اُس کا ایسا خوفناک نقشہ ہے کہ آدمی برداشت نہیں کر سکتا۔لیکن ان لوگوں نے اپنے بچوں تک کے دل اتنے سخت کر دیئے ہیں کہ وہاں کھڑے سارے نظارے پر وہ تالیاں بجاتے رہے۔نیو یارک ٹائمز ، فنانشل ٹائمز ، ان سب نے ، تقریباً اسی طرح کی خبریں لکھی ہیں۔جکار تا پوسٹ جو اُن کا اخبار ہے، اُس میں ایک مضمون نگار کا مضمون ہے ، وہ لکھتا ہے کہ ”جماعت احمد یہ کے افراد پر تازہ حملہ جس وجہ سے بھی ہوا، لیکن یہ ظاہر کرتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں اقلیتی گروپ کے لئے کسی بھی قسم کے مہذب جذبات اور خیالات نہیں ہیں۔جبکہ یہ احمدی بھی اور دوسرے مذہبی گروپ بھی تعمیر وطن