خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 630
خطبات مسرور جلد نهم 630 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 دسمبر 2011ء بھی بہت زیادہ پڑھے لکھے ہو اس لئے تم دنیا کی طرف چلے جاؤ، وہاں کیوں نہیں چلے جاتے ؟ میں نے انہیں کہا (شاہ صاحب کہتے ہیں کہ میں نے انہیں کہا کہ ) میں نے دو معاہدے کئے ہوئے ہیں، ایک معاہدہ تو یہ شادی کا آپ کی بیٹی کے ساتھ ہے اور دوسرا خدا کے ساتھ وقف زندگی کا عہد ہے۔اب آپ بتائیں کونسا عہد توڑوں ؟ اور پھر کہتے ہیں تھوڑی دیر کے بعد میں نے اُن کو کہا کہ اگر پہلا عہد قائم رکھتے ہوئے دوسرے عہد کو توڑ دوں تو یہ کس طرح ہو گا ؟ اس بات کو سُن کے اُن کے سر خاموش ہو گئے اور آئندہ کبھی پھر اس موضوع پر بات نہیں کی۔شاہ صاحب کہتے ہیں خدا تعالیٰ کے فضل سے اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے مجھے ساری زندگی بے حساب نوازا ہے۔پرانے بزرگوں کی یہ بھی ایک نیک فطرت تھی کہ آپ کے سسر کو وقتی طور پر آپ کی حالت دیکھ کر جو ایک بشری تقاضا بھی ہے خیال آیا، لیکن آپ کے جواب سے بالکل خاموش ہو گئے کہ خدا سے عہد توڑنے کا تو ایک احمدی کبھی تصور بھی نہیں کر سکتا اور اس سے شاہ صاحب کے توکل کا بھی پتہ چلتا ہے اور اُس وقت خدا تعالیٰ نے بھی آپ کے تو کل اور عہد کی پابندی کے جذبات کو ایسا نوازا کہ کہتے ہیں پھر ساری زندگی کبھی مجھے کوئی تنگی نہیں ہوئی۔اپنے ماتحتوں سے حسن سلوک اور جذبات کا بہت خیال رکھتے تھے۔ان کے اکاؤنٹنٹ بتاتے ہیں کہ شاہ صاحب کے ساتھ پندرہ سال کام کیا ہے۔مجھے سوائے ایک واقعہ کے اور کوئی موقع یاد نہیں جب آپ نے کبھی شدید غصے کا اظہار کیا ہو اور ہوا یہ تھا کہ کسی غلط فہمی کی بنا پر ہم نے ایک دفتر کو کچھ کتابیں محترم شاہ صاحب کو بتائے بغیر دے دی تھیں۔جب کسی دوست نے محترم شاہ صاحب کو اس امر کے بارے میں بتایا تو شاہ صاحب نے شدید برہمی کا اظہار فرمایا اور شاہ صاحب کی ناراضگی کی وجہ سے میں دو دن تک آپ کے کمرے میں نہیں گیا۔دوروز بعد آپ نے مجھے اپنے کمرے میں بلایا اور مسکرائے اور آپ کے سامنے بسکٹ وغیرہ پڑے ہوئے تھے وہ آپ نے مجھے دیئے۔ایک اور ان کے مدد گار کار کن محمد اقبال صاحب ہیں وہ لکھتے ہیں۔کہ بیس سال کا عرصہ ہو گیا ہے ہمیشہ بیٹیوں کی طرح ہمارے ساتھ سلوک رہا۔کارکنان کے ساتھ ہمیشہ بہت پیار اور محبت کا سلوک رہا اور آپ کارنگ حد درجه درویشانہ تھا۔اگر کسی کارکن کی مدد کرتے تو دوسرے کو اس کا علم بھی نہ ہونے دیتے۔اسی طرح اگر اپنا ذاتی کام کرواتے تو با قاعدہ حق ادا کیا کرتے تھے۔اسی طرح اگر کسی کارکن کے بچے کی شادی ہوتی تو جس حد تک مدد کر سکتے تھے آپ کیا کرتے تھے۔اس کے علاوہ بھی بیشمار ضرورت مندوں کی مدد کرتے تھے۔اُن کی وسعت علمی کے بارے میں عبد المجید عامر صاحب جو ہمارے یہاں عربی ڈیسک کے ہیں، لکھتے ہیں کہ جب سے خاکسار نے روحانی خزائن کا ترجمہ شروع کیا ہے اُن کے ساتھ تعلق رہا۔خاکسار کو بعض مشکل مقامات کے حل کے سلسلے میں اُن سے رہنمائی اور ہدایت کی ضرورت پڑتی تھی۔محترم شاہ صاحب نے ہر دفعہ خندہ پیشانی سے نہایت محققانہ اور عالمانہ رنگ میں بر وقت رہنمائی فرمائی۔خاکسار کے تاثرات پر ان کا جواب ہمیشہ بہت مدلل اور تسلی بخش اور سوال کے تمام جوانب پر، ہر پہلو پر پوری طرح محیط اور ساتھ ہی شفقت اور اخلاق عالیہ کی چاشنی سے پر ہوا کرتا تھا۔اگر خاکسار کوئی تجویز پیش کرتا تو بڑی خندہ پیشانی سے اُسے قبول فرماتے۔اُن کی شفقتوں کا یہ ހނ سلسلہ تادم آخر جاری رہا۔