خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 631 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 631

631 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 23 دسمبر 2011ء خطبات مسرور جلد نهم مبشر ایاز صاحب لکھتے ہیں کہ جامعہ کی سالانہ کھیلوں پر تقسیم انعامات کے لئے سلسلہ کے بزرگوں میں سے بعض خصوصی مہمان بلائے جایا کرتے تھے۔ایک سال جن بزرگ خادم سلسلہ کو بلایا گیا اُن کا تعارف کرواتے ہوئے مکرم پرنسپل صاحب جامعہ احمدیہ نے فرمایا کہ کام کرنے والے کئی قسم کے ہوتے ہیں۔کچھ تو وہ ہوتے ہیں جو ایک ہاتھ سے کام کرتے ہیں اور ایک ہاتھ سے تالی بجاتے رہتے ہیں یعنی اپنے کاموں کو مشہور کرتے رہتے ہیں۔بتاتے بھی ہیں کہ ہم نے یہ کام کیا اور وہ کام کیا۔کچھ وہ ہوتے ہیں جو دونوں ہاتھوں سے تالی بجارہے ہوتے ہیں اور کام وام کچھ نہیں کر رہے ہوتے ، شور شرابہ زیادہ ہوتا ہے ، پراپیگینڈہ زیادہ ہوتا ہے۔اور کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو دونوں ہاتھوں سے کام کرتے رہتے ہیں اور انہیں کوئی غرض نہیں ہوتی کہ اُن کے کام کو کوئی دیکھے اور اُن کی واہ واہ ہو۔آج ایسے ہی خادم سلسلہ ہمارے مہمان ہیں یعنی سید عبد الحئی شاہ صاحب۔تو یہ سو فیصد درست بات ہے ، میں نے ہمیشہ یہی دیکھا ہے بڑی خاموشی سے کام کرتے چلے جاتے تھے۔بیمار تھے ، پاؤں سوجے ہوتے تھے۔ایک دن میں نے اُن کو پوچھا بھی کہ آپ کے پاؤں سوجے ہوتے ہیں تکلیف نہیں ہوتی ؟ تو انہوں نے کہا مجھے تو کام کرتے وقت کبھی احساس نہیں ہوا، پھر میں کام میں اتناجت جاتا ہوں کہ مجھے کچھ پتہ نہیں لگتا کہ کیا ہو رہا ہے۔انجمن کے اجلاسوں میں میں نے دیکھا ہے بہت کم بولتے تھے لیکن جب بولتے تھے تو بڑی ٹھوس صائب رائے ہوتی تھی۔پھر مبشر ایاز صاحب ہی لکھتے ہیں کہ خاکسار کو جب اُن کے کچھ قریب ہونے کا موقع ملا اور پھر کچھ عرصہ اُن کے نائب کے طور پر کام کرنے کا بھی موقع ملا تو انہیں واقعی ایسا ہی پایا۔خاموش طبع، درویش صفت ، انتھک محنت کرنے کے ساتھ اور بھی بیشمار خوبیوں کا مالک پایا۔دفتر آتے ہی کام میں گویا جت جاتے تھے۔پنجابی میں محاورہ ہے ”سر سُٹ کے “ کام کرنا شروع کر دیتے تھے۔دفتری خطوط سے لے کر روحانی خزائن اور قرآن مجید کی پروف ریڈنگ کا کام خود کرتے اور پھر اس خادم اور قابلِ رشک اور تقلید خادم سلسلہ کو کچھ پتہ نہ چلتا کہ کب چھٹی ہوئی ہے اور لوگ جا بھی چکے ہیں۔کام کرتے کرتے پاؤں سوج جایا کرتے لیکن یہ اللہ کا بندہ کام کام اور صرف کام کرتارہتا۔بے غرض اور بے نفس اور ایک درویش صفت انسان تھے۔بہت قریب سے خاکسار کو دیکھنے کا موقع ملا۔دکھاوا اور نمود و نمائش تو چھو کر بھی نہیں گزری۔حلیمی اور چشم پوشی انتہا کی تھی۔سلسلے کی تاریخ کا ایک بہت بڑا ذخیرہ اور ماخذ تھے۔باوجود کثرت کار کے ہنس مکھ تھے۔درویش طبع اور عجز و انکسار کے پتلے تھے۔میں نے خود مشاہدہ کیا کہ سلسلے کے پیسے کو بہت احتیاط سے اور سوچ سمجھ کر بلکہ کئی دفعہ سوچ کر خرچ کرتے تھے۔بہت احساس تھا کہ سلسلے کا پیسہ ضائع نہ ہو۔اپنے کارکنان کے ساتھ ہمدردی اور ستاری اور حلیمی کا بہت زیادہ مادہ تھا۔لمبا عرصہ بیمار رہے لیکن بیماری کو اپنے کام میں روک نہیں بننے دیا۔پھر ان کے ایک اور مربی صاحب لکھتے ہیں کہ ذات میں آنا اور کبر کا ادنی سا بھی شائبہ نہ تھا اور حقیقی طور پر ایک بے نفس درویش صفت اور فرشتہ سیرت انسان تھے۔