خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 629
629 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 دسمبر 2011ء خطبات مسرور جلد نهم ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لیا جس سے میری یہ حالت جاتی رہی۔حضور اعتماد کرنے میں جلدی نہیں کرتے تھے اور جب حضور کسی پر اعتماد کر لیتے تھے تو پھر اس کو بھر پور شفقت، رہنمائی اور عفو و در گزر سے نوازتے تھے اور نوازتے ہی چلے جاتے تھے۔(ماخوذ از ماہنامہ خالد جلد 30 شمارہ 6-7 سید نا ناصر نمبر “ اپریل مئی 1983ء صفحہ 156) لکھتے ہیں کہ ایک مقدمہ کے سلسلے میں میری گرفتاری کے وارنٹ نکلے۔(وہاں پاکستان میں رسالوں کے ایڈیٹرز اور پرنٹرز وغیرہ پر وارنٹ گرفتاری تو بہت سارے نکلتے رہتے تھے ، تو ان کے بھی وارنٹ گرفتاری نکلے) حضرت خلیفۃ المسیح الثالث کو جب پتہ لگا، آپ نے اُن کو بلایا، ساتھ وکلاء کو بلایا، میٹنگ ہوئی۔اس کے بعد لکھتے ہیں کہ جب ہم چلے آئے تو حضور نے اپنے ایک بیٹے کو بھجوایا کہ عبد الحئی کو کہو گھبرانا نہیں میں اس کے لئے دعا کروں گا۔(ماخوذ از ماہنامہ خالد جلد 30 شمارہ 6-7 ”سید ناناصر نمبر “ اپریل مئی 1983ء صفحہ 157) آگے خلیفہ المسیح الثالث " کے اس بیٹے کا یہ حوالہ ہے کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے اُن کے جانے کے بعد مجھے بلا کر کہا کہ دیکھو! ابھی یہاں سے شاہ صاحب وغیرہ گئے ہیں۔ایک کیس ہے انہوں نے لاہور یا اسلام آباد جانا تھا، ابھی گئے نہیں ہوں گے اُن کو جاکر کہو کہ اُن کے جانے کے فوراً بعد پریشانی میں جب میں نے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے یہ الفاظ میری زبان پر جاری فرمائے کہ کبھی ضائع نہیں کرتا وہ اپنے نیک بندوں کو “ تھا، بڑا (ماخوذ از ماہنامہ خالد جلد 30 شمارہ 6-7 ”سید نا ناصر نمبر “اپریل مئی 1983ء صفحہ 37) اس لئے پریشانی کی ضرورت نہیں ہے۔چنانچہ چند دن میں ( ان کے خلاف ایک بڑا خوفناک کیس بنایا گیا اسنگین قسم کا کیس تھا) وہ سب معاملہ ختم ہو گیا۔تو اللہ تعالیٰ کا حضرت خلیفتہ المسیح الثالث کو یہ بتانا، اس بات کی بھی سند ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نظر میں محترم شاہ صاحب کا شمار نیک بندوں میں ہو تا تھا جو اللہ تعالیٰ کی پناہ میں رہتے ہیں۔لیکن ایک اور موقع پر بعد میں اُن پر کیس ہوا تو اسیر راہ مولیٰ ہونے کا بھی اللہ تعالیٰ نے موقع عطا فرمایا۔یہ کیس جو ان پر بنایا گیا، یہ ایک پمفلٹ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس مصرعہ پر تھا کہ : ”یہی ہیں پنجتن جن پر بنا ہے۔“ جو لجنہ کی طرف سے رسالے میں شائع ہوا تھا جب یہ شائع ہوا تو اس پر سیکرٹری لجنہ ، اُن کے کاتب محمد ارشد صاحب اور سید عبد الحئی شاہ صاحب پر یہ مقدمہ قائم کر دیا گیا اور عبد الحئی شاہ صاحب اور محمد ارشد صاحب کو کئی روز حوالات میں رکھا گیا اور ان پر مقدمہ کئی ماہ جاری رہا۔(ماخوذ از سلسلہ احمدیہ جلد سوم صفحہ 534 شائع کردہ نظارت اشاعت ربوہ) ایک مربی صاحب نے لکھا کہ شاہ صاحب بتاتے ہیں شروع میں واقف زندگی کو الاؤنس بہت تھوڑا ملا کرتا تھا، جس سے گزارہ بڑی مشکل سے ہوا کرتا تھا تو اس پر میرے سسر نے ایک دفعہ مجھے کہا کہ تم دنیاوی لحاظ سے