خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 621 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 621

621 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 16 دسمبر 2011ء خطبات مسرور جلد نهم سے دیئے کہ وہ اس وقت غصہ سے پیچ و تاب کھاتی رہیں ، بلکہ اُن کے حمایتیوں نے بھی اُن کی اس حالت پر جس طرح وہ اعتراض کر رہی تھیں بڑھ بڑھ کے افسوس کا اظہار کیا، اور یوں اللہ تعالیٰ کے فضل سے احمدی نوجوانوں کے ذریعہ سے اسلام کی تعلیم کی فتح ہوئی۔پس ہمیں قرآن کریم سمجھنے کی بہت زیادہ کوشش کرنی چاہئے ، اس پر عمل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے، تبھی ہمارے اپنے گھر بھی جنت نظیر بنیں گے اور اپنے معاشرے اور ماحول میں بھی ہم تبلیغ کا حق ادا کرنے والے بن سکیں گے۔قرآنِ کریم کی تلاوت کرنے کا طریق سکھاتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : قرآن شریف تدبر و تفکر و غور سے پڑھنا چاہئے۔حدیث شریف میں آیا ہے رُبَّ قَارٍ يَلْعَنُهُ الْقُرْآنُ یعنی بہت ایسے قرآنِ کریم کے قاری ہوتے ہیں جن پر قرآن کریم لعنت بھیجتا ہے۔جو شخص قرآن پڑھتا اور اُس پر عمل نہیں کرتا اُس پر قرآنِ مجید لعنت بھیجتا ہے۔تلاوت کرتے وقت جب قرآنِ کریم کی آیت رحمت پر گزر ہو تو وہاں خدا تعالیٰ سے رحمت طلب کی جاوے اور جہاں کسی قوم کے عذاب کا ذکر ہو تو وہاں خدا تعالیٰ کے عذاب سے خدا تعالیٰ کے آگے پناہ کی درخواست کی جاوے اور تدبر و غور سے پڑھنا چاہئے اور اس پر عمل کیا جاوے۔“ ( ملفوظات جلد پنجم صفحہ 157 مطبوعہ ربوہ) یہ صورت اُسی وقت ہو سکتی ہے جب اس کی اہمیت کا اندازہ ہو ، اس سے خاص تعلق ہو۔پس یہ اہمیت اور خاص تعلق ہم نے اپنے دلوں میں قرآن کریم کے لئے پیدا کرنا ہے۔بعض لوگوں کے اس بہانے اور یہ کہنے پر کہ قرآن شریف سمجھنا بہت مشکل ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : بعض نادان لوگ کہا کرتے ہیں کہ ہم قرآن شریف کو نہیں سمجھ سکتے اس کی طرف توجہ نہیں کرنی چاہئے کہ یہ بہت مشکل ہے، یہ اُن کی غلطی ہے۔قرآنِ شریف نے اعتقادی مسائل کو ایسی فصاحت کے ساتھ سمجھایا ہے جو بے مثل اور بے مانند ہے اور اس کے دلائل دلوں پر اثر ڈالتے ہیں۔یہ قرآن ایسا بلیغ اور فصیح ہے کہ عرب کے بادیہ نشینوں کو جو بالکل ان پڑھ تھے سمجھا دیا تھا۔تو پھر اب کیونکر اس کو نہیں سمجھ سکتے۔“ ( ملفوظات جلد پنجم صفحہ 177 مطبوعہ ربوہ) اس زمانے میں تو ہم پر اللہ تعالیٰ کا یہ بڑا احسان ہے اور اللہ تعالیٰ نے ہم پر احسان کرتے ہوئے اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھیجا ہے جنہوں نے ہمیں ظاہری احکام ہی نہیں بتائے بلکہ گہرے حقائق و معارف قرآنِ کریم کے ہمیں کھول کر بیان کر دیے۔وَ أَخَرِيْنَ مِنْهُم لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ (الجمعة:4) کا فیض ہمیں پہنچایا ہے۔پس اس خزانے سے ہمیں جواہرات جمع کرنے کی کوشش کرنی چاہئے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں دیئے۔اور یہ اُس وقت تک نہیں ہو سکتا جبتک ہم اس سے حقیقی محبت کرنے والے نہیں بنیں گے۔جماعت سے باہر مسلمانوں میں دنیا میں بہت سے ایسے لوگ ہیں جن کی قرآت بڑی اچھی ہے ، انعامات حاصل کرتے ہیں، بڑی بڑی ریکارڈنگ کی کیسٹس اُن کی دنیا میں چلتی ہیں لیکن اس کے باوجو د اچھی قراءت کرنے والوں میں