خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 622 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 622

622 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 16 دسمبر 2011ء خطبات مسرور جلد نهم سے بعض ایسے بھی ہیں جن کو قرآنِ کریم کے معانی اور مطالب کا نہیں پتا۔بلکہ بڑے بڑے علماء کو نہیں پتا لگتا تبھی تو اسلام میں بہت عرصہ آیات کے ناسخ و منسوخ کا ایک مسئلہ چلتا رہا ہے اور پھر ابھی بھی بعض آیتوں کی ان کو سمجھ نہیں آتی جس میں ایک حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات کا مسئلہ بھی ہے۔بہر حال یہ ان کے معانی و مطالب سے نا آشنا ہیں۔اس بارے میں بڑی انذار کرنے والی ایک حدیث ہے جو حضرت عباس بن عبد المطلب روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ وہ زمانہ آنے والا ہے کہ قرآن کریم کی تلاوت کرنے والے ایسے لوگ پیدا ہو جائیں گے جو ڈینگیں ماریں گے کہ ہم سے بڑا قاری کون ہے؟ ہم سے بڑا عالم کون ہے؟ پھر آپ نے صحابہ سے دریافت فرمایا کہ کیا تمہیں ایسے لوگوں میں کوئی بھلائی والی بات دکھائی دیتی ہے؟ صحابہ نے عرض کیا۔ہر گز نہیں۔اس پر آنحضرت صلی یکم نے فرمایا یہ لوگ تم میں سے اور اسی امت میں سے ہی ہوں گے لیکن وہ دوزخ کی آگ کا ایندھن ہوں گے۔(مجمع الزوائد ومنبع الفوائد كتاب العلم باب كراهية الدعوى حديث 876 جلد نمبر 1 صفحہ 251-252۔دار الكتب العلمیة بیروت 2001ء) پس اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا وارث بنانے والی اور اللہ تعالیٰ کا قرب دلانے والی اور دوزخ کی آگ سے بچانے والی اصل چیز عاجزی سے قرآن کریم کی تعلیم کو سمجھ کر اُس پر عمل کرنا ہے۔اس کو پیشہ بنانا نہیں ہے بلکہ اس سے محبت کرنا ہے۔اور یہ آج ہم میں سے ہر احمدی کا فرض ہے کہ اس پر توجہ دے۔اس کے حصول کی کوشش کرے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کشتی نوح میں ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : تم ہوشیار رہو اور خدا کی تعلیم اور قرآن کی ہدایت کے بر خلاف ایک قدم بھی نہ اٹھاؤ۔میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ جو شخص قرآن کے سات سو حکم میں سے ایک چھوٹے سے حکم کو بھی ٹالتا ہے وہ نجات کا دروازہ اپنے ہاتھ سے اپنے پر بند کرتا ہے۔حقیقی اور کامل نجات کی راہیں قرآن نے کھولیں اور باقی سب اس کے ظل تھے۔سو تم قرآن کو تدبر سے پڑھو۔اور اُس سے بہت ہی پیار کرو۔ایسا پیار کہ تم نے کسی سے نہ کیا ہو۔کیونکہ جیسا کہ خدا نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ الْخَيْرُ كُلُّهُ فِی الْقُرْآنِ کہ تمام قسم کی بھلائیاں قرآن میں ہیں۔یہی بات سچ ہے۔افسوس اُن لوگوں پر جو کسی اور چیز کو اُس پر مقدم رکھتے ہیں۔تمہاری تمام فلاح اور نجات کا سر چشمہ قرآن میں ہے۔کوئی بھی تمہاری ایسی دینی ضرورت نہیں جو قرآن میں نہیں پائی جاتی۔تمہارے ایمان کا مصدق یا مکذب قیامت کے دن قرآن ہے۔اور بجزء قرآن کے آسمان کے نیچے اور کوئی کتاب نہیں جو بلاواسطہ قرآن تمہیں ہدایت دے سکے۔خدا نے تم پر بہت احسان کیا ہے جو قرآن جیسی کتاب تمہیں عنایت کی۔میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ وہ کتاب جو تم پر پڑھی گئی اگر عیسائیوں پر پڑھی جاتی تو وہ ہلاک نہ ہوتے۔اور یہ نعمت اور ہدایت جو تمہیں دی گئی۔اگر بجائے توریت کے یہودیوں کو دی جاتی تو بعض فرقے ان کے قیامت سے منکر نہ ہوتے۔پس اس نعمت کی قدر کر وجو تمہیں دی گئی۔یہ نہایت پیاری نعمت ہے۔یہ بڑی دولت ہے۔اگر قرآن نہ آتا تو تمام دنیا ایک گندے مضغہ کی طرح تھی۔“ (گندے لوتھڑے کی طرح تھی) " قرآن وہ کتاب ہے جس کے مقابل پر تمام ہدایتیں پیچ ہیں۔“ (کشتی نوح، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 26-27)