خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 596
خطبات مسرور جلد نهم 596 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 02 دسمبر 2011ء نبوت کا اظہار فرمایا اُس وقت حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ شام کی طرف سوداگری کرنے کے لئے گئے ہوئے تھے۔جب واپس آئے تو ابھی راستہ ہی میں تھے کہ ایک شخص آپ سے ملا۔آپ نے اس سے مکہ کے حالات دریافت فرمائے اور پوچھا کہ کوئی تازہ خبر سناؤ۔جیسا کہ قاعدہ کی بات ہے کہ جب انسان سفر سے واپس آتا ہے تو راستہ میں اگر کوئی اہل وطن مل جائے تو اس سے اپنے وطن کے حالات دریافت کرتا ہے۔اس شخص نے جواب دیا کہ نئی بات یہ ہے کہ تیرے دوست محمد نے پیغمبری کا دعویٰ کیا ہے۔آپ نے یہ سنتے ہی فرمایا کہ اگر اُس نے یہ دعویٰ کیا ہے تو بلا شبہ وہ سچا ہے۔اسی ایک واقعہ سے معلوم ہو سکتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر آپ کو کس قدر حسن ظن تھا۔معجزے کی بھی ضرورت نہیں سمجھی۔اور حقیقت بھی یہی ہے کہ معجزہ وہ شخص مانگتا ہے جو مدعی کے حالات سے ناواقف ہو اور جہاں غیریت ہو اور مزید تسلی کی ضرورت ہو۔لیکن جس شخص کو حالات سے پوری واقفیت ہو تو اسے معجزہ کی ضرورت ہی کیا ہے۔الغرض حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ راستہ میں ہی آنحضرت کا دعوی نبوت سن کر ایمان لے آئے۔پھر جب مکہ میں پہنچے تو آنحضرت کی خدمت مبارک میں حاضر ہو کر دریافت کیا کہ کیا آپ نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں یہ درست ہے۔اس پر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا آپ گواہ رہیں کہ میں آپ کا پہلا مصدق ہوں۔آپؐ کا ایسا کہنا محض قول ہی قول نہ تھا بلکہ آپ نے اپنے افعال سے اسے ثابت کر دکھایا اور مرتے دم تک اسے نبھایا اور بعد مرنے کے بھی ساتھ نہ چھوڑا۔“ ( ملفوظات جلد اول صفحہ 247 ،248 مطبوعہ ربوہ) پھر حضرت ابو بکر صدیق سے اس وفا اور قربانیوں کا اظہار کس طرح ہوا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ “ ایک دفعہ چند دشمنوں نے آپ کو تنہا پا کر پکڑ لیا اور آپ کے گلے میں پڑکا ڈال کر اُسے مروڑ ناشروع کیا۔قریب تھا کہ آپ کی جان نکل جائے کہ اتفاق سے ابو بکر آنکلے اور انہوں نے مشکل سے چھڑایا۔بہ ان دشمنوں نے ابو بکر کو اس قدر مارا پیٹا کہ وہ بیہوش ہو کر زمین پر گر پڑے“۔اس پر (سوانح عمری حضرت محمد صاحب بانی اسلام مر تبہ شردھے پر کاش دیوجی صفحہ 37 پبلشر نرائن دت سہگل اینڈ سنز لاہور، بحواله چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 257-258 پھر اُمت پر حضرت ابو بکر صدیق کے ایک بہت بڑے احسان کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ایسا ہی حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا اس آیت سے استدلال کرنا کہ مَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ (آل عمران: 145) صاف دلالت کرتا ہے کہ اُن کے نزدیک حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو چکے تھے کیونکہ اگر اس آیت کا یہ مطلب ہے کہ پہلے نبیوں میں سے بعض نبی تو جناب خاتم الانبیاء کے عہد سے پیشتر فوت ہو گئے ہیں مگر بعض اُن میں سے زمانہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک فوت نہیں ہوئے تو اس صورت میں یہ آیت قابل استدلال نہیں رہتی کیونکہ ایک ناتمام دلیل جو ایک قاعدہ کلیہ کی طرح نہیں اور تمام افراد گزشتہ پر دائرہ کی