خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 597
597 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02 دسمبر 2011ء خطبات مسرور جلد نهم طرح محیط نہیں وہ دلیل کے نام سے موسوم نہیں ہو سکتی۔پھر اُس سے حضرت ابو بکر کا استدلال لغو ٹھہرتا ہے۔اور یادر ہے کہ یہ دلیل جو حضرت ابو بکر نے تمام گزشتہ نبیوں کی وفات پر پیش کی کسی صحابی سے اس کا انکار مروی نہیں حالانکہ اُس وقت سب صحابی موجود تھے اور سب سُن کر خاموش ہو گئے۔اس سے ثابت ہے کہ اس پر صحابہ کا اجماع ہو گیا تھا اور صحابہ کا اجماع حجت ہے جو کبھی ضلالت پر نہیں ہوتا۔سو حضرت ابو بکر کے احسانات میں سے جو اس امت پر ہیں ایک یہ بھی احسان ہے کہ انہوں نے اس غلطی سے بچنے کے لئے جو آئندہ زمانہ کے لئے پیش آنے والی تھی اپنی خلافت حقہ کے زمانہ میں سچائی اور حق کا دروازہ کھول دیا اور ضلالت کے سیلاب پر ایک ایسا مضبوط بند لگا دیا کہ اگر اس زمانہ کے مولویوں کے ساتھ تمام جنیات بھی شامل ہو جائیں تب بھی وہ اس بند کو توڑ نہیں سکتے۔سو ہم دعا کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ حضرت ابو بکر کی جان پر ہزاروں رحمتیں نازل کرے جنہوں نے خدا تعالیٰ سے پاک الہام پا کر اس بات کا فیصلہ کر دیا کہ مسیح فوت ہو گیا ہے۔“ تریاق القلوب روحانی خزائن جلد نمبر 15 صفحہ 461-462 حاشیہ) پھر ایک عظیم فتنے کے دور کرنے کے لئے، فرو کرنے کے لئے جو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا عظیم کارنامہ ہے، اُس کے بارے میں آپ فرماتے ہیں:۔اُس زمانہ میں بھی مسیلمہ نے اباحتی رنگ میں لوگوں کو جمع کر رکھا تھا۔ایسے وقت میں حضرت ابو بکر خلیفہ ہوئے تو انسان خیال کر سکتا ہے کہ کس قدر مشکلات پیدا ہوئی ہوں گی۔اگر وہ قوی دل نہ ہوتا اور حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایمان کا رنگ اُس کے ایمان میں نہ ہو تا تو بہت ہی مشکل پڑتی اور گھبر ا جاتا۔لیکن صدیق نبی کا ہم سایہ تھا ( یعنی سائے کے نیچے تھا اسی سائے میں تھا۔” آپ کے اخلاق کا اثر اُس پر پڑا ہو ا تھا اور دل نورِ یقین سے بھر ا ہو ا تھا۔اس لئے وہ شجاعت اور استقلال دکھایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اُس کی نظیر ملنی مشکل ہے۔اُن کی زندگی اسلام کی زندگی تھی۔یہ ایسا مسئلہ ہے کہ اس پر کسی لمبی بحث کی حاجت ہی نہیں۔اُس زمانہ کے حالات پڑھ لو اور پھر جو اسلام کی خدمت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کی ہے اُس کا اندازہ کر لو۔میں سچ کہتا ہوں کہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اسلام کے لئے آدم ثانی ہیں۔میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ابو بکر کا وجود نہ ہو تا تو اسلام بھی نہ ہوتا۔ابو بکر صدیق کا بہت بڑا احسان ہے کہ اُس نے اسلام کو دوبارہ قائم کیا۔اپنی قوتِ ایمانی سے گل باغیوں کو سزا دی اور امن کو قائم کر دیا۔اسی طرح پر جیسے خدا تعالیٰ نے فرمایا اور وعدہ کیا تھا کہ میں سچے خلیفہ پر امن کو قائم کروں گا۔یہ پیشگوئی حضرت صدیق کی خلافت پر پوری ہوئی اور آسمان نے اور زمین نے عملی طور پر شہادت دے دی۔پس یہ صدیق کی تعریف ہے کہ اس میں صدق اس مر تبہ اور کمال کا ہونا چاہئے“۔( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 252 مطبوعہ ربوہ ) پھر خلیفہ ثانی حضرت عمرؓ کے مقام حب رسول اور اخلاص کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔”ایک دفعہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ آپ کے گھر میں گئے اور دیکھا کہ گھر میں کچھ اسباب نہیں اور آپ