خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 578 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 578

578 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 18 نومبر 2011ء خطبات مسرور جلد نهم تیرے دین کے لئے سینہ سپر ، تیرے رسولوں کے فدائی، پاک محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نبیوں کے سردار کے حقیقی فرزند، عاشق صادق جن کے عشق کی آگ کبھی دھیمی نہ ہوتی ہو۔اے میرے مالک! وہ تیرے غلام ہوں، ہاں صرف تیرے غلام۔دنیا کے بادشاہوں کے سامنے اُن کی گردنیں نیچی نہ ہوں لیکن تیرے دربار میں وہ سب سے زیادہ منکسر المزاج ہوں۔پاک نسلوں کے چھوڑنے والے، دنیا کو معرفت کی راہوں پر چلانے والے، ایک نہ مٹنے والی نیکی کا بیج بونے والے۔نیکوں کو اور اونچالے جانے والے، بدوں کی اصلاح کرنے والے ، مردہ دلی سے متنفر اور روحانی زندگی کے زندہ نمونے۔اے میرے حی و قیوم خدا! وہ اور ان کی اولادیں اور ان کی اولادیں ابد تک دنیا میں تیری امانت ہوں جس میں شیطان خیانت نہ کر سکے۔وہ تیر امال ہوں جسے کوئی پچرانہ سکے۔وہ تیرے دین کی عمارت کے لئے کونے کا پتھر ہوں جسے کوئی معمار رد نہ کر سکے۔وہ تیری کھنچی ہوئی تلواروں میں سے ایک تلوار ہوں جو ہر شر کو جڑ سے کاٹنے والی ہو۔وہ تیرے عفو کا ہاتھ ہوں جو گناہگاروں کو معاف کرنے کے لئے بڑھایا جائے۔وہ زیتون کی شاخ ہوں جو طوفان کے ختم ہونے کی بشارت دیتی ہے۔ہاں اے حی و قیوم خدا! وہ تیر انگل ہوں جو تُو اپنے بندوں کو جمع کرنے کے لئے بجاتا ہے۔غرضیکہ وہ تیرے ہوں اور تُو اُن کا ہو یہاں تک کہ اُن میں سے ہر ایک اس وحدت کو دیکھ کر کہہ اُٹھے کہ من تو شدم تو من شدی، من تن شدم تو جاں شدی تا کس نه گوید بعد ازیں، من دیگرم تو دیگری آمين ثُمَّ آمِيْن وَ بِرَحْمَتِكَ أَسْتَغِيْثُ يَا رَبِّ الْعَالَمِينَ ( میری ساره، انوار العلوم جلد 13 صفحہ 188-189) یہ وہ دعا ہے جو اللہ کرے کہ پوری جماعت کے ہر فرد پر پوری ہو۔اللہ تعالیٰ مرحومہ کے درجات بلند سے بلند تر کرتا چلا جائے اور ان کے بچوں کو ان کی نصائح پر عمل کرنے کی توفیق دے۔دوسر ا ذ کر ہمارے سلسلے کے ایک بزرگ کا ہے جو مکرم مولانا عبد الوہاب احمد صاحب شاہد مربی سلسلہ ابن مکرم مولانا عبد الرحمن صاحب مرحوم ہیں۔عبد الوہاب احمد شاہد صاحب 11 ستمبر 2011ء کو ڈیڑھ ماہ شدید بیمار رہنے کے بعد بقضائے الہی وفات پاگئے تھے۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا لَيْهِ رَاجِعُون۔عبد الوہاب شاہد صاحب مربی سلسلہ مؤرخہ 5 ستمبر 1943ء کو گوئی ضلع کوٹلی آزاد کشمیر میں پیدا ہوئے۔وہیں تعلیم حاصل کی۔1967ء میں جامعہ احمدیہ سے شاہد کی ڈگری حاصل کی۔آپ نے پاکستان میں دس مختلف جگہوں پر خدمات سرانجام دیں۔اس کے بعد 1991ء تا 1999ء نظارت دعوت الی اللہ کے تحت مختلف اضلاع میں دعوت الی اللہ کے اہم فریضے کی نگرانی کا کام سر انجام دیتے رہے۔بیرونِ ملک تنزانیہ میں مارچ 1976ء سے اکتوبر 1979ء تک خدمت کی توفیق پائی۔دوسری دفعہ تنزانیہ میں ہی جولائی 1986ء تک بطور امیر و مشنری انچارج خدمت کی توفیق پائی۔1999ء تاد سمبر 2006ء بطور مربی دارالضیافت ربوہ خدمت کی توفیق پائی اور اب اُس کے بعد سے دفتر اصلاح و ارشاد مرکز یہ میں خدمت