خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 579 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 579

579 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 18 نومبر 2011ء خطبات مسرور جلد نهم سر انجام دے رہے تھے۔آپ نہایت خوش مزاج، ملنسار اور ہنس مکھ انسان تھے۔خلافت کے ساتھ والہانہ عشق و محبت کا تعلق تھا۔مہمان نواز اور غریبوں کے ہمدرد تھے۔ہر دلعزیز اور پسندیدہ شخصیت تھے۔علم سے شغف تھا۔الفضل اور دیگر جرائد میں مضامین لکھتے رہتے تھے۔چار کتب کے مصنف تھے۔آپ کے خاندان کے مورث اعلیٰ اور جد امجد دہلی کے پرانے گدی نشین تھے جنہوں نے ہندوستان میں اسلام پھیلایا۔اُن کی نسل سے حضرت مولانا محبوب عالم صاحب پیدا ہوئے۔آپ دہلی سے گجرات ہجرت کر کے چک میانہ ڈھلوں میں فروکش ہوئے۔پھر یہاں سے درس و تدریس کے سلسلے میں کشمیر گئے۔آپ گوئی کے علاقہ میں تھے جب آپ کو حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کا علم ہوا۔آپ کہا کرتے تھے کہ یہ ایک مصلح ربانی کی آمد کا وقت ہے۔امام مہدی کو آہی جانا چاہئے۔اسی خیال میں مستغرق تھے کہ رویا میں دیکھا کہ صحیح اور مہدی موعود کا ظہور ہو چکا ہے۔چنانچہ آپ بغرض تحقیق روانہ ہوئے اور اپنے استاد حضرت مولانا برہان الدین صاحب جہلمی سے جا کر ملے اور اپنی رؤیا کا ذکر کیا۔انہوں نے کہا کہ ہم تو احمدیت قبول کر چکے ہیں۔آپ بھی علامات کے مطابق پر کچھ لیں۔ان دنوں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام لاہور میں جلوہ افروز تھے۔آپ لاہور پہنچے اور دستی بیعت کا شرف حاصل کیا۔بیعت کر کے جب واپس لوٹے تو آپ کی بہت مخالفت ہوئی لیکن کئی سعید فطرت لوگوں نے آپ کے ذریعے سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بیعت کی۔تیسر اوفات یافتہ کا جو ذکر ہے وہ مکرم عبد القدیر فیاض صاحب چانڈیو مربی سلسلہ ابن مکرم ماسٹر غلام محمد صاحب چانڈیو مرحوم ہیں۔8 ستمبر کو ان کی وفات ہوئی ہے۔اِنَّا لِلّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ۔مرحوم بچوں کو سکول چھوڑنے جارہے تھے کہ راستے میں ہارٹ اٹیک ہوا۔ہسپتال پہنچایا گیا لیکن اللہ کی تقدیر غالب آئی اور وفات پاگئے۔یکم مئی 1974ء کو شاہد کی ڈگری حاصل کی اور میدانِ عمل میں قدم رکھا۔پاکستان میں اصلاح وارشاد مقامی ، مرکزیہ اور وقف جدید کے تحت چودہ مختلف مقامات پر خدمت دین کی خدمت پائی۔دو مر تبہ بیرونِ ملک تنزانیہ میں بھی خدمت کی توفیق پائی۔آپ نے مٹھی نگر پارکر میں بطور نائب ناظم وقف جدید خدمت کی توفیق پائی اور آجکل کراچی میں تعینات تھے۔مرحوم نہایت خوش مزاج، نیک سیرت، ہنس مکھ اور با اخلاق انسان تھے۔جس جماعت میں جاتے ہر ایک کو اپنا گرویدہ بنالیتے۔مہمان نواز، غریبوں کے ہمدرد اور ان سے گھل مل کر رہتے تھے۔آپ کی نمایاں خوبی تھی کہ نہایت صابر و شاکر تھے۔برداشت کا مادہ بہت زیادہ تھا۔اگر کوئی تکلیف بھی دیتا تو اُس سے ہمیشہ حسن سلوک کرتے اور کبھی بدلہ نہ لیتے۔خلافت احمدیہ سے والہانہ محبت اور عشق کا تعلق تھا اور خلیفہ وقت کے ہر حکم کے آگے سر تسلیم خم کرتے اور مکمل اطاعت کرتے اور جماعتوں سے بھی اطاعت کروانے کی کوشش کرتے رہتے۔مرحوم کا حلقہ احباب بہت وسیع تھا۔اپنے حلقے میں ہر دلعزیز اور پسندیدہ شخصیت تھے۔جن جماعتوں میں آپ نے خدمت کی توفیق پائی وہ آج بھی آپ کو بہت اچھے لفظوں میں یاد کرتی ہیں۔آپ سندھ کے مشہور چانڈیو قبیلے سے پہلے واقف زندگی تھے اور سندھی مربیان میں تیسرے واقف زندگی تھے۔اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرماتا چلا جائے۔