خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 577
577 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 18 نومبر 2011ء خطبات مسرور جلد نهم ظاہری صبر کیا ہے اسے باطن میں بھی صبر دے۔جس طرح اُس نے ایک زبر دست طاقت کا مظاہرہ کیا ہے تو اُسے حقیقی طاقت بھی بخش۔میرے رب! تیری حکمت نے اُسے اس کی ماں کی محبت سے اس وقت محروم کر دیا ہے جبکہ وہ ابھی محبت کا سبق سیکھ رہی تھی۔عشق و محبت کے سرچشمے ! تو اُسے اپنی محبت کی گود میں اُٹھالے اور اپنی محبت کا بیچ اس کے دل میں بودے۔ہاں ہاں تو اسے اپنے لئے وقف کر لے۔اپنی خدمت کے لئے چن لے۔وہ تیری ، ہاں صرف تیری محبت کی متوالی، تیرے در کی بھکارن اور تیرے دروازے پر دھونی رمانے والی ہو اور تو اسے دنیا کی نعمت بھی دے تاوہ لوگوں کی نظروں میں ذلیل نہ ہو۔باوجود ہر قسم کی عزت کے اُس کا دنیا سے ایسا تعلق ہو جیسا کہ کوئی شخص بارش کے وقت ایک کمرے سے دوسرے کمرے کی طرف جاتے وقت دوڑتا ہوا گزر جاتا ہے۔(ماخوذ از میری ساره, انوار العلوم جلد نمبر 13 صفحہ 187-188) اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کی جو ساری زندگی تھی اس میں نظر آتا تھا کہ یہ دعا حضرت مصلح موعود کی بڑی شان سے پوری ہو رہی ہے۔اللہ کرے کہ ان کے بچے بھی اس دعا کے مصداق بنیں بلکہ خاندان کے تمام افراد اور جماعت کے تمام افراد اس دعا کے مصداق بننے والے ہوں۔پھر اپنے تمام بچوں کے لئے حضرت مصلح موعودؓ نے ایک دعا کی جو میں سمجھتا ہوں بیان کرنی ضروری ہے۔میں پڑھتا ہوں۔اللہ تعالیٰ اس کا مصداق پوری جماعت کو بھی بنائے۔کیونکہ آجکل یہ زمانہ ہے جس میں انشاء اللہ ہم آئندہ فتوحات کے ساتھ داخل ہو رہے ہیں۔تو اگر یہ ہماری حالت رہے گی تب ہی ہم کامیاب ہو سکتے ہیں۔آپ کی یہ دعا ہے کہ: ”اے میرے رب ! اپنے باقی بچوں کو بھی تیرے سپر د کر تاہوں۔یہ دنیا کے کتے نہ ہوں، یہ تیری جنت کے پرند ہوں۔یہ دین کے ستون ہوں اور بیت اللہ کے محافظ - آسمان کے ستارے جو تاریکی میں گمراہوں کے رہنما ہوتے ہیں۔چمکنے والا سورج جو تاریکی کو پھاڑ کر محنت، ترقی اور کسب کے لئے راستہ کھول دیتا ہے۔سوتوں کو جگاتا اور بچھڑوں کو ملاتا ہے۔یہ محبت کے درخت ہوں جن کے پھل بغض و حسد کی کڑواہٹ سے کلی طور پر پاک ہوتے ہیں۔یہ راستہ کا کنواں ہوں جو سایہ دار درختوں سے گھرا ہوا ہو جس پر ہر تھکا ہوا مسافر ہر واقف اور ناواقف آرام کے لئے ٹھہر تا ہو۔جس کا ٹھنڈا پانی ہر پیاسے کی پیاس بجھاتا اور جس کا لمبا سایہ ہر بے کس کو اپنی پناہ میں لیتا ہو۔یہ ظالموں کو ظلم سے روکنے والے ، مظلوموں کے دوست، خود موت قبول کر کے دنیا کو زندہ کرنے والے، خود تکلیف اُٹھا کر لوگوں کو آرام دینے والے ہوں۔وہ وسیع الحوصلہ، کریم الاخلاق اور طویل الایادی ہوں۔جن کا دستر خوان کسی کے لئے ممنوع نہ ہو۔وہ سابق بالخیرات ہوں۔ان کا ہاتھ نہ گردن سے بندھا ہوا ہو نہ اس قدر کھلا کہ ندامت و شرمندگی اس کے نتیجے میں پیدا ہو۔اے میرے ہادی! وہ دین کے مبلغ ہوں۔اسلام کی اشاعت کرنے والے ، مردہ اخلاق کو زندہ کرنے والے، تقویٰ کے مٹے ہوئے راستوں کو پھر روشن کرنے والے، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و کے پہلوان، لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ کے مصداق، ابنائے فارس کی سنت کو قائم رکھنے والے، تیرے لئے غیرت مند،