خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 547
خطبات مسرور جلد نهم 547 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 04 نومبر 2011ء اب میں واپس جماعت کے اخلاص و وفا کے اظہار کی طرف آتے ہوئے ان کی مالی قربانیوں کے بارے میں کچھ بتاتا ہوں جن سے پتہ چلتا ہے کہ کس طرح دنیا کے ہر کونے میں مختلف قسم کی مالی قربانیوں میں احباب جماعت کس اخلاص و وفا کا اظہار کر رہے ہیں۔ایمان میں ترقی کے لئے کس طرح اپنی قربانیوں کے لئے کمر بستہ ہیں۔جو لوگ جماعت کو ختم کرنے کی باتیں کرتے تھے وہ تو آج کہیں نظر نہیں آتے ، اُن کے چیلے چانٹے اور اُن کی فطرت رکھنے والے ہی یہ دیکھ لیں کہ کس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت میں آکر اسلام کی ترقی کے لئے لوگ غربت کے باوجود قربانیاں دے رہے ہیں اور اخلاص و وفا کے نمونے دکھارہے ہیں۔ہمارے آئیوری کوسٹ کے مبلغ صاحب لکھتے ہیں کہ ہمارے ایک دوست آلیڈو وڈراگو صاحب Alido Oudrago) نے 2009ء کے آخر میں بیعت کی اور بیعت کے پہلے دن سے ہی اپنی آمدنی کا حساب کر کے با قاعدہ شرح کے مطابق چندہ ادا کرنا شروع کر دیا۔اس دوران انہوں نے چندے کی بے شمار برکات کا مشاہدہ کیا۔ایک دن جماعت کے پرانے ممبران کے ساتھ ان برکات کا ذکر کر رہے تھے۔ان پرانے ممبران میں سے ایک جس نے 2004ء میں بیعت کی تھی، ان واقعات کو سُنتے ہوئے اپنا چندہ دو ہزار فرانک سے بڑھا کر پانچ ہزار فرانک سیفا کرنے کی حامی بھر لی۔کہتے ہیں کہ ابھی ادائیگی شروع نہ کی تھی کہ انہوں نے مشاہدہ کیا کہ ان کی آمدنی میں بھی غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔چنانچہ وہ پرانے ممبر میرے پاس آئے اور سارا واقعہ بیان کر کے کہا کہ انہوں نے پانچ ہزار فرانک سیفا کی حامی بھری تھی مگر آج سے میں پانچ کی بجائے دس ہزار فرانک سیفاماہانہ ادا کروں گا اور پھر اس کے مطابق ادا ئیگی بھی شروع کر دی۔اور اس طرح بے تحاشہ اور ممبران ہیں جو چندوں میں آگے بڑھ رہے ہیں۔گنی کنا کری کے مبلغ لکھتے ہیں کہ ایک نوجوان محترم محمد ماریگا صاحب (Muhammad Marega) لمبا عرصہ تبلیغ کے بعد خدا تعالیٰ کے فضل سے جماعت میں داخل ہوئے۔پیشے کے اعتبار سے یہ ایک آرکیٹکٹ انجنیئر ہیں۔جب انہوں نے بیعت کی تو یہ کنسٹرکشن کمپنی میں ملازمت کرتے تھے اور معمولی تنخواہ لیتے تھے۔بیعت کے بعد جب ان کو جماعت کے مالی نظام کا تعارف کروایا تو انہوں نے پوچھا کہ ان چندوں میں سب سے اہم چندہ کو نسا ہے۔انہیں بتایا گیا کہ چندہ وصیت، چندہ عام اور چندہ جلسہ سالانہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے کے جاری کردہ ہیں اور وصیت کی اہمیت کے متعلق انہیں بتایا۔فوراً کہنے لگے کہ میں آج سے ہی چندہ وصیت ادا کروں گا۔مبلغ نے انہیں بتایا کہ وصیت کا ایک نظام ہے اُس میں داخل ہونے کے بعد آپ چندہ وصیت ادا کر سکتے ہیں۔تو کہنے لگے میں اس نظام میں بھی داخل ہو تا ہوں۔پھر انہوں نے رسالہ الوصیت پڑھا اور اُس کے بعد وصیت کی اور بڑی ایمانداری سے اپنی تنخواہ کا دسواں حصہ چندہ دینا شروع کیا اور وصیت کی منظوری میں کچھ وقت لگتا ہے تو اس وقت کے آنے تک مسلسل باقاعدگی سے وصیت دیتے رہے، اور پھر کچھ عرصے بعد اس کے علاوہ دوسری مالی تحریکات جو ہیں اُن میں بھی انہوں نے حصہ لیا۔پھر کچھ عرصے بعد کمپنی چھوڑ دی اور اپنا کاروبار شروع کیا اور اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے اپنی کمپنی کے مالک ہیں اور سارے ملک میں اپنی ایمانداری کی وجہ سے مشہور ہیں اور اُس کی