خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 548
خطبات مسرور جلد نهم 548 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 04 نومبر 2011ء وجہ سے اُن کا کاروبار بھی بڑا چمکا ہے اور سب کے سامنے بیٹھ کر بر ملا اظہار کرتے ہیں کہ یہ نعمتیں مجھے مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت میں شامل ہونے اور نظام وصیت میں شامل ہونے سے ملی ہیں۔پھر گھانا سے ہمارے مبلغ جبرئیل سعید صاحب لکھتے ہیں کہ ایک دوست الحاج محمد اگبوبے میرے ساتھ تبلیغی دورے پر ٹو گوگئے ، وہاں ایک جگہ ناجونگ (Najong) میں ہم نے دھوپ میں کھڑے ہو کر نماز ظہر ادا کی۔الحاج محمد اگبو بے نے کہا ان لوگوں کے لئے مسجد بنانا ان کا حق ہے۔بالکل چھوٹی سی نئی جماعت ہے ، چھوٹا گاؤں ہے۔چنانچہ انہوں نے بڑی مالی قربانی کرتے ہوئے ایک خوبصورت مسجد اُن کے لئے بنوادی۔یہ الحاج صاحب اچھے امیر آدمی ہیں اور اس مسجد میں تین سو افراد نماز ادا کر سکتے ہیں، اب اس مسجد کے مینار بھی بن رہے ہیں۔اور چونکہ یہ جگہ بہت دور دراز علاقے میں ہے ، سامان پہنچانا مشکل ہے لیکن پھر بھی یہ الحاج صاحب خود بڑی تکلیف سے اور خرچ کر کے یہ سامان جو تعمیر کا سامان ہے وہاں پہنچارہے ہیں۔آئیوری کوسٹ کی صدر لجنہ کہتی ہیں کہ اس سال مجلس شوریٰ میں جماعت آئیوری کوسٹ کی پچاس سالہ جوبلی کے موقع پر مرکزی مسجد کی تعمیر کے لئے چندے کی تحریک کی گئی تو لجنہ ممبرات نے اُسی وقت ایک ایک لاکھ فرانک سیفا کا وعدہ لکھوادیا اور کہتی ہیں کہ ہماری سیکرٹری تحریک جدید جو ایک مخلص احمدی ہیں انہوں نے ایک لاکھ فرانک سیفا کی فوری ادائیگی بھی کر دی۔اُن لوگوں کے لئے یہ بہت بڑی رقم ہے۔گو ویسے تو ان کی کرنسی میں گو ایک لاکھ ہیں لیکن صرف ایک سو پینتیس پاؤنڈ بنتے ہیں، لیکن افریقہ کے لئے بہت بڑی رقم ہے کیونکہ اس خاتون کی چھوٹی سی سبزی کی ایک دکان تھی اور بڑی عیالدار خاتون ہیں۔برکینا فاسو کے امیر صاحب لکھتے ہیں کہ بادلہ (Badala) نامی جماعت کے ایک دوست واتارا عبدالحئی صاحب نے ہمارے مشنری کی ایک تقریر سن کر عہد کیا کہ بیشک میں غریب ہوں اور سوائے اناج کے یعنی زمیندارہ کے اور کوئی ذریعہ معاش بھی نہیں لیکن عہد یہی ہے کہ اب ہر ماہ سو فرانک چندہ دیا کروں گا۔ابھی اس بات کو کچھ عرصہ ہی گزرا تھا کہ بارشوں کی کمی کا سامنا کرنا پڑا اور سارے لوگ اس کی وجہ سے پریشان ہونے لگے۔لیکن یہ کہتے ہیں کہ جو بات سب نے میرے ساتھ مشاہدہ کی وہ میری فصل تھی جو اللہ کے فضل سے بہت اچھی تھی۔اس بات نے میرا ایمان چندوں کے بارے میں اور بڑھا دیا اور میں نے عہد کیا کہ اب میں چھ ہزار فرانک سیفا تحریک جدید میں دوں گا۔اس عہد پر بھی ابھی کچھ دن ہی گزرے ہوں گے کہ فصل کی کٹائی کی باری آگئی اور میری فصل کی پیداوار سب سے الگ اور زیادہ تھی۔اس پر میں نے سوچا کہ جو بھی غیر معمولی فصل ہوئی ہے وہ چندے کی برکت سے ہوئی ہے تو میں نے اپنے تحریک جدید کے چندے کو بڑھا کر بارہ ہزار فرانک کر دیا۔برکینافاسو کے امیر صاحب ہی لکھتے ہیں کہ سوری (Souri) نامی گاؤں کے ایک احمدی بزرگ کا بورے (Kabore) صاحب خاندان میں اکیلے احمدی ہیں۔وہ خود بتاتے ہیں کہ ایک لمبے عرصے سے اپنی ضعیف العمری اور مختلف عوارض کی وجہ سے وہ نمازوں کی ادائیگی میں کمزور تھے اور اس بات کا ہر لمحہ انہیں رنج تھا۔اس سال