خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 516 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 516

516 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 اکتوبر 2011ء خطبات مسرور جلد نهم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق دریدہ دہنی اور غلیظ زبان زیادہ استعمال کی جارہی ہے۔ختم نبوت کے نام پر اس عاشق رسول کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔اس کے ماننے والوں کے دلوں کو چھلنی کیا جا رہا ہے۔لیکن ہم یہ سب کچھ عشق رسول کے نام پر ہی برداشت کرتے ہیں اور اپنے پیارے خدا کے آگے جھکتے ہیں جس نے کبھی ہمیں نہیں چھوڑا۔ہماری طرف سے تبلیغ اسلام کی کوشش اگر کم بھی ہو تو اللہ تعالیٰ اپنے پیارے مسیح و مہدی کی سچائی ثابت کرنے کے لئے خود لوگوں کی رہنمائی فرماتا ہے اور پچھلے ایک سو پچیس سال سے فرماتا چلا جارہا ہے۔اُن کے دلوں کو کھولتا ہے اور انہیں جماعت میں شامل ہونے کی توفیق دیتا چلا جاتا ہے۔اس وقت میں چند واقعات آپ کے سامنے رکھوں گا جو آپ کے ازدیاد ایمان کے لئے پیش کرنا چاہتا ہوں۔ہمارے جرمنی کے مبلغ ہیں محمد احمد صاحب۔وہ لکھتے ہیں کہ ایک غیر از جماعت دوست سر بادباش صاحب کئی سال سے خاکسار کے زیر تبلیغ تھے۔جماعت کے عقائد کو ہر لحاظ سے درست سمجھتے تھے لیکن بیعت کے متعلق انہیں قلبی اطمینان حاصل نہ تھا۔یہ تبلیغ بھی کرتے تھے اور ان کی تبلیغ کے نتیجہ میں بعض اور وں نے بیعت کر لی۔خود بیعت نہیں کی لیکن احمدیت کی تبلیغ کرتے تھے اور کہتے تھے ابھی کچھ تحفظات ہیں۔مربی صاحب لکھتے ہیں کہ یہ ایک دن خاکسار کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ بیعت کرنے کا طریق کیا ہے۔میں نے حیران ہو کر پوچھا کہ کیا معاملہ ہے؟ کہنے لگے کہ رات میں نے ایک رؤیاد دیکھی ہے۔اس رویا میں مجھے یہ آواز آئی کہ احمدیت وہ سمندر ہے جس کے خزائن پر اطلاع پانا ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہیں ہے۔کہنے لگے کہ اس آواز نے میرے قلب وروح کی کیفیت بدل دی ہے۔چنانچہ انہوں نے اسی وقت بیعت کر لی۔آئیوری کوسٹ کے ایک گاؤں سو سے آبے (Soce Abe) میں ہمارے مبلغ تبلیغ کے لئے پہنچے اور امام مہدی کی آمد کا اعلان کیا تو اس گاؤں کے بانی بیٹی جباتے صاحب (Yahya Diabate) نے کھڑے ہو کر اپنی رؤیا بیان کی کہ رات انہوں نے انتہائی شمالی افق پر تقریباً دو بجے صبح ایک روشنی ابھرتی ہوئی دیکھی۔پھر ایک ہفتے بعد ایک روشنی جنوبی افق کی طرف سے نمودار ہوئی۔اس گاؤں کے چیف نے اپنا یہ خواب علماء کے سامنے بیان کیا تو علماء نے جواب دیا کہ تمہیں بہت بڑی خوش بختی ملنے والی ہے۔اس خواب کے کچھ ہی دنوں بعد جب احمدی مبلغین کا وفد اُس گاؤں پہنچا اور امام مہدی کی خبر اُن کو سنائی گئی تو خوشی کے مارے اُچھل کر وہ لوگوں کے سامنے آئے اور سارا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہی وہ خوش بختی ہے جس کی اللہ تعالیٰ نے شمال اور جنوب کی طرف سے نمودار ہونے والی روشنی کی صورت میں مجھے خبر دی تھی۔میں صداقت کو قبول کرتا ہوں اور اپنے لوگوں کو کہا کہ جو تم میں سے قبول کرنا چاہے اُسے یقین دلاتا ہوں کہ احمدیت خدا تعالیٰ کی طرف سے بھجوائی ہوئی خوش بختی ہے اُسے قبول کر لو۔اور پھر وہاں تقریباً پورے گاؤں نے بیعت کر لی۔پھر عراق سے ایک صاحب ہیں وحید مراد صاحب۔وہ کہتے ہیں کہ میں شیعہ ماحول میں رہتا ہوں۔والد