خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 517
517 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 14اکتوبر 2011ء خطبات مسرور جلد نهم اور دادا بھی شیعہ ہیں لیکن امام مہدی کے بارے میں شیعہ عقائد پر اطمینان نہ ہو تا تھا اور خیال آتا تھا کہ ضرور کہیں کوئی خلل موجود ہے۔ایک روز خواب میں دیکھا کہ ایک کمرے میں بیٹھا ہوں۔اسی دوران چار اشخاص کے آنے کی آواز سنائی دی جن کو میں نہیں جانتا۔باہر نکل کر دیکھا تو یہ چاروں پانی کا پائپ لے کر میرے گھر پر پانی چھڑک رہے تھے۔میں حیرت سے پوچھتا ہوں کہ یہ کیا کر رہے ہو۔وہ کہنے لگے کہ ہمیں آپ کے گھر کو صاف کرنے کا حکم ہے۔میں نے پوچھا کہ باقی پڑوسیوں کے بارے میں کیا حکم ہے؟ کہنے لگے کہ ہمیں صرف آپ کے گھر کو صاف کرنے کا ہے۔خواب کے دوسرے روز ٹی وی کھولا تو سکرین پر چار افراد مصطفی ثابت صاحب، شریف صاحب اور ہانی صاحب اور مومن صاحب پروگرام الْحِوَارُ الْمُبَاشِر میں موجود تھے۔مجھے یقین ہو گیا کہ خواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔لہذا مجھے بیعت کر لینی چاہئے۔فرانس کے امیر صاحب لکھتے ہیں کہ ری یونین آئی لینڈ کی ایک خاتون میٹنگ میں شرکت کے لئے فرانس آرہی تھی۔آنے سے قبل انہیں خواب میں بتایا گیا کہ فرانس جا کر اپنے عزیز ایل ایم سے ضرور ملنا۔چنانچہ وہ فرانس پہنچ کر اپنے اس عزیز کو ملیں جو اللہ کے فضل سے پہلے ہی بیعت کر چکے تھے۔وہ اس خاتون کو مشن ہاؤس لائے۔تبلیغی مجلس کے بعد اس خاتون نے بیعت کر لی۔اگلے روز جب اس خاتون کو ائیر پورٹ پر چھوڑنے کے لئے اس کے قیام والی جگہ پر پہنچے تو وہاں اُس کا خاوند اور بیٹے بھی موجود تھے۔انہوں نے بتایا کہ ہمیں احمدیت کے بارے میں پتہ چل چکا ہے۔اب آپ ہماری بیعت لے لیں۔چنانچہ وہ سارا خاندان احمدی ہو گیا۔پھر مصر سے عبدالمجید صاحب کہتے ہیں۔میں نے خواب میں دیکھا کہ میں ایک چھوٹی سی کشتی میں سوار ہوں اور ہاتھ میں ایک چپو ہے اور بے مقصد و منزل گھوم رہا ہوں۔جبکہ سمندر میں طغیانی ہے اور کشتی گرنے الٹنے کے قریب ہے۔تب میں نے اللہ تعالیٰ کی آواز سنی کہ یہ لو موسیٰ کا عصا اور سمند ر پر مارو۔اس پر کسی قدر ٹیڑھاعصا ہاتھ آگیا۔میں نے اُسے آسمان سے لیا اور سمندر پر مارا۔اتنے میں کشتی ایک بلند مقام پر ٹھہر گئی جو خوبصورت عمارتوں والا ایک شہر ہے۔اس میں سارے لوگ خوش شکل اور خوش و خرم تھے۔مجھے بتایا گیا کہ یہ جماعت احمدیہ کا شہر ہے اس سے میں نے سمجھا کہ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ مجھے بیعت کر لینی چاہئے۔چنانچہ مجھے بیعت کی توفیق ملی۔صرف مسلمانوں کو نہیں بلکہ غیر مسلموں کو بھی اللہ تعالی رہنمائی فرماتا ہے۔ہالینڈ کے آپ کے جو مبلغ صاحب ہیں انہوں نے مجھے لکھا کہ ایک ہندو عورت جن کا نام مالتی ہے۔انہوں نے تقریباً پندرہ سال قبل اسلام قبول کیا تھا۔مراکش کے باشندے یوسف منصور اللہ سے شادی کی۔شادی کے بعد اس خاتون نے خواب میں دیکھا کہ ہندوستان میں مختلف علاقوں کے لوگ جنہوں نے سفید رنگ کے کپڑے پہنے ہوئے ہیں ایک بزرگ کے گرد جمع ہو رہے ہیں اور یہ لوگ ہاتھوں کے اشارے سے کہہ رہے ہیں کہ یہ شخص مسیح موعود ہے۔اُس خاتون نے اپنے خاوند کو خواب سنایا۔خاوند نے ایم ٹی اے دیکھا جس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ظہور کے حوالے سے