خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 515
515 خطبات مسرور جلد نهم خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 14اکتوبر 2011ء تھا۔آپ ہی وہ عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کا ہر لمحہ مقام محمدیت کے منوانے کے لئے قربان کر دیا۔آپ کے دل میں جو عشق رسول تھا اُس کا اندازہ آپ کی تحریرات سے ہو سکتا ہے۔آپ ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : اب آسمان کے نیچے فقط ایک ہی نبی اور ایک ہی کتاب ہے یعنی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم جو اعلیٰ و افضل سب نبیوں سے اور اتم و اکمل سب رسولوں سے اور خاتم الانبیاء اور خیر الناس ہیں۔جن کی پیروی سے خدائے تعالیٰ ملتا ہے اور ظلماتی پر دے اُٹھتے ہیں اور اسی جہان میں کچی نجات کے آثار نمایاں ہوتے ہیں“۔(براہین احمد یہ روحانی خزائن جلد نمبر 1 صفحہ 557 حاشیه در حاشیہ نمبر 3) پھر آپ فرماتے ہیں: ”وہ انسان جو سب سے زیادہ کامل اور انسانِ کامل تھا اور کامل نبی تھا اور کامل برکتوں کے ساتھ آیا جس سے روحانی بعث اور حشر کی وجہ سے دنیا کی پہلی قیامت ظاہر ہوئی اور ایک عالم کا عالم مرا ہوا اُس کے آنے سے زندہ ہو گیا۔وہ مبارک نبی حضرت خاتم الانبیاء، امام الاصفیاء، ختم المرسلين، فخر النبيين جناب محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔اے پیارے خدا اس پیارے نبی پر وہ رحمت اور درود بھیج جو ابتداء دنیا سے تو نے کسی پر نہ بھیجا ہو“۔اتمام الحجة روحانی خزائن جلد نمبر 8 صفحہ 308) پھر آپ فرماتے ہیں: ”جو لوگ ناحق خدا سے بے خوف ہو کر ہمارے بزرگ نبی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو بُرے الفاظ سے یاد کرتے اور آنجناب پر ناپاک تہمتیں لگاتے اور بد زبانی سے باز نہیں آتے ہیں اُن سے ہم کیونکر صلح کریں۔میں سچ سچ کہتا ہوں کہ ہم شورہ زمین کے سانپوں اور بیابانوں کے بھیڑیوں سے صلح کر سکتے ہیں لیکن ان لوگوں سے ہم صلح نہیں کر سکتے ، جو ہمارے پیارے نبی پر جو ہمیں اپنی جان اور ماں باپ سے بھی پیارا ہے ، نا پاک حملے کرتے ہیں۔خدا ہمیں اسلام پر موت دے۔ہم ایسا کام کرنا نہیں چاہتے جس میں ایمان جاتا رہے“۔پیغام صلح روحانی خزائن جلد نمبر 23 صفحہ 459) پس کیا اس طرح عشق محمد اور مقام محمدیت اور غیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا اظہار کرنے والا آج اس زمانے میں ہمیں کوئی نظر آتا ہے؟ سوائے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کوئی نظر نہیں آئے گا۔روئے زمین پر تلاش کر لیں، ایسا عاشق صادق دنیا کو کہیں ڈھونڈے سے نہیں ملے گا۔لیکن مسلمانوں کے ایک بڑے طبقے کی بد قسمتی ہے کہ پھر بھی نہ صرف اس عاشق رسول کا انکار کر رہے ہیں بلکہ ظالمانہ طور پر آپ کو بیہودہ گوئیوں اور گالیوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔پاکستان میں تو آئے دن جیسا کہ میں نے کہا یہ ملاں ایسے پروگرام کرتے رہتے ہیں۔ربوہ میں بھی جہاں اٹھانوے فیصد احمدیوں کی آبادی ہے ، وہاں احمدی جو ہیں اُنہیں تو جلسہ اور اجتماع کرنے کی اجازت نہیں لیکن ختم نبوت کے نام پر دشمنانِ احمدیت کو احمدیت کے خلاف اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف غلیظ زبان استعمال کرنے کی اجازت ہے۔کل شام سے پھر ان لوگوں کا ایک جلسہ ہو رہا ہے جو یہ اکتوبر میں ربوہ میں کرتے ہیں۔جو آج شام ختم ہو نا تھا جس میں اب تک کی جو رپورٹیں آئی ہیں عشق رسول کی بات تو کم ہوئی ہے۔