خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 512
خطبات مسرور جلد نهم 512 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 اکتوبر 2011ء تنگیاں وارد کی جارہی ہیں ، اور تنگ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، یہ دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ملک کو ہر طرح کی تباہی سے بچائے۔گزشتہ خطبہ میں جب میں نے دعا کی تحریک کی تھی اور روزہ رکھنے کا بھی کہا تھا تو اس بارے میں پھر یہ کہا تھا کہ ایک نفلی روزہ ہر ہفتہ رکھیں تو ضمناً بتادوں کہ مناسب ہو گا کہ جماعتی طور پر ایک ہی دن روزہ رکھا جائے۔ہر مقامی جماعت اپنے طور پر بھی فیصلہ کر سکتی ہے لیکن بہتر یہی ہے کہ پھر مقامی جماعت میں بھی ایک فیصلہ ہو۔پیریا جمعرات کا دن رکھ لیا جائے۔یہی پاکستان کے احمدیوں کو میں نے کہا تھا۔بہر حال جو میں نے تحریک کی تھی اس پر جماعت کو بھر پور توجہ دینے کی ضرورت ہے۔اس دعا کی تحریک میں بھی جہاں میں نے جماعت کو ان دشمنوں اور دشمنیوں اور ظالموں اور ظلموں سے بچنے کے لئے کہا تھا وہاں ملک کو بھی ان سے پاک کرنے کے لئے کہا تھا کہ فسادیوں سے اللہ تعالیٰ ملک کو بھی پاک کرے تاکہ یہ ملک بچ جائے۔ہمیں اپنے ملک سے محبت ہے۔اس لئے ہمارے دل یہ چیزیں دیکھ کر بے چین ہو جاتے ہیں۔بہر حال یہ ہمارا فرض ہے ، ہر احمدی پاکستانی کا فرض ہے اور اُس نے اسے ادا کرنا ہے۔اب میں واپس اپنی پہلی بات کی طرف آتا ہوں۔میں نے کہا تھا کہ اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور آپ سے ہدایت پاکر آپ کی جماعت کے افراد ہی ہیں جو اسلام کی نشاۃ ثانیہ اور اس کی تمام دینوں پر برتری ثابت کرنے کا کام کر رہے ہیں۔اور اس وجہ سے چاہے افریقہ ہو، یورپ ہو یا امریکہ ہو یا دنیا کا کوئی بھی علاقہ ہو اسلام کے دفاع کے لئے ، نہ صرف دفاع کے لئے بلکہ اسلام کی برتری ثابت کرنے کے لئے احمدی سب سے آگے بے دھڑک کھڑا ہو جاتا ہے۔جہاں تیل کی کوئی دولت کام نہیں کرتی وہاں احمدی کا اپنی معمولی آمد سے خدا تعالیٰ کی رضا کی خاطر دیا ہو ا چندہ کام کرتا ہے۔بیشک اس میں ہمارا کوئی کمال نہیں ہے۔یہ کوئی فخر نہیں ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ وہ ہماری معمولی قربانیوں میں برکت ڈالتا ہے اور اس کے بیشمار پھل لگتے ہیں۔پس ہمارا کام ہے کہ اللہ تعالیٰ کے پیار کو جذب کرنے کے لئے اُس کے حضور اپنی معمولی قربانیاں پیش کرتے چلے جائیں۔ہم احسان فراموش نہیں ہیں۔یہ اللہ تعالیٰ کا ہم پر کتنا بڑا احسان ہے کہ اُس نے ہمیں احمدیت قبول کرنے کی توفیق دی۔اگر ہمارے باپ دادا کو یہ توفیق دی تو ہمیں اس پر قائم رہنے کی توفیق دی تا کہ ہم امام الزمان کے ساتھ جڑ کر اُس کے مشن کو پورا کرنے کی کوشش کرتے ہوئے دنیا اور عاقبت سنوار سکیں لیکن یاد رکھیں کہ صرف مالی قربانی کر کے ہمارے کام ختم نہیں ہو جاتے۔ہم نے اپنے اندر اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنے والے دل پیدا کرنے کی کوشش کرنی ہے۔ہم نے اپنے اعلیٰ اخلاق کے معیار حاصل کرنے کی کوشش کرنی ہے۔ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پیغام کو جو اسلام کا حقیقی پیغام ہے اپنے اپنے ملک میں پھیلانے کی بھی کوشش کرنی ہے۔اسلام کے خلاف اُٹھائے گئے الزامات کو دور کر کے اسلام کی خوبصورت تعلیم بھی دنیا کے سامنے پیش کرنی ہے۔پس ہالینڈ کی جماعت بھی جو گو چھوٹی سی جماعت ہے اپنی اس ذمہ داری کو سمجھے۔چند ایک کے کام کرنے سے یہ مقصد پورا نہیں ہو سکتا۔ہالینڈ میں رہنے والے ہر احمدی کو اپنے ماحول میں اس اہم کام کو کرنے کی کوشش