خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 511 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 511

511 خطبات مسرور جلد نهم خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 14اکتوبر 2011ء تثلیث کے غلط نظریے کی حقیقت کھول کر عیسائی مشنریوں کے سامنے ایک روک کھڑی کر دی جس کا انہیں بر ملا اظہار کرنا پڑا کہ احمد ی ہمارے سامنے روکیں کھڑی کر رہے ہیں۔لیکن اسلام کے اس جری اللہ اور اللہ تعالی کے اس فرستادے کے کام کو دیکھنے کے باوجود مسلمانوں کی اکثریت نے بجائے خوشی سے اچھلنے اور آپ کی جماعت میں شامل ہونے کے آپ کے خلاف بغض، عناد اور کینہ کا وہ بازار گرم کیا کہ الامان والحفیظ۔لیکن جیسا کہ میں نے کہا اللہ تعالیٰ کی تقدیر نے تو بہر حال اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے کا ساتھ دینا ہے اور دے رہی ہے۔سعید فطرت لوگ آہستہ آہستہ مسیح محمدی کی جماعت میں شامل ہوتے رہے ہیں اور ہو رہے ہیں لیکن اکثریت نام نہاد ملاؤں کے خوف اور علم کی کمی کی وجہ سے مخالفت پر کمربستہ ہے اور ہر روز کوئی نہ کوئی مخالفانہ کارروائی مسلمان کہلانے والے ملکوں اور خاص طور پر پاکستان میں احمدیت کے خلاف ہوتی رہتی ہے۔بعض ٹی وی چینل بھی اس میں پیش پیش ہیں جو یورپ اور دنیا میں سنے جاتے ہیں، جو کم علم مسلمانوں کے غلط رنگ میں جذبات بھڑ کا کر احمدیت کے خلاف اکساتے رہتے ہیں۔بعض ٹی وی چینل اپنی پالیسی کے مطابق اس کی اجازت نہیں دیتے تو کسی رفاہی کام کے بہانے وقت خرید کر یہ شدت پسند لوگ اور فساد پیدا کرنے والے لوگ اس پر بھی کسی نہ کسی بہانے سے اعلان کر دیتے ہیں کہ احمدی واجب القتل ہیں۔گزشتہ دنوں ایسے ہی ایک چینل پر یہاں یورپ میں ایک مولوی نے یہ اعلان کیا لیکن بہر حال جب چینل کے مالک سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے معذرت کی اور آئندہ اس مولوی کو اپنے چینل پر نہ آنے کی یقین دہانی کروائی۔لیکن بہر حال ان بد فطر توں نے اسلام، ناموس رسالت اور ختم نبوت کے نام پر کم علم مسلمانوں کے جذبات کو انگیخت کرنے کا کام سنبھالا ہوا ہے۔جیسا کہ میں نے کہا کہ اسلام کی تبلیغ اور برتری ثابت کرنے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام دنیا پر واضح کرنے کے لئے جو کوشش جماعت احمدیہ کر رہی ہے اُس کا اعتراف تو خود اسلام مخالف قوتیں اور مشنری بھی کر رہے ہیں۔یہ جو مسلمان کہلانے والے اور پھر احمدیوں پر اعتراض کرنے والے ہیں ان لوگوں کو تو اتنی توفیق بھی نہیں ہے کہ اسلام کی تبلیغ کے لئے چند روپے خرچ کر دیں۔ہاں ملک کی دولت لوٹنے کی ہر ایک کو فکر ہے۔آج اسلام اور ناموس رسالت کے نام پر جو کچھ ملک میں ہو رہا ہے ، جو ملک میں دہشت گردی پھیلی ہوئی ہے اُس نے ہر شریف النفس کو بے چین کر دیا ہے۔کوئی جان بھی محفوظ نہیں ہے۔احمدیوں کے خلاف تو یہ شدت پسندی ہے ہی اور احمدیوں کو اس کی ایک عادت پڑ چکی ہے۔میں کئی دفعہ اس کا اظہار کر چکا ہوں لیکن خود پاکستان کا کوئی شہری بھی اس سے محفوظ نہیں ہے۔سوچتے نہیں کہ ایک طرف لا قانونیت ہے، ملک میں فساد پھیلا ہوا ہے ، کوئی حکومت نہیں ہے اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ کی آفات نے ملک کو گھیر اہوا ہے۔یہ سب کچھ کیا ہو رہا ہے ؟ قوم کس طرف جارہی ہے؟ اللہ تعالیٰ کس انجام کی طرف ان کو لے کر جارہا ہے اور کیا انجام ان کا ہونا ہے۔اللہ تعالیٰ ہی ان کو عقل دے کہ یہ سوچیں اور سمجھیں۔جہاں تک احمدیوں کا سوال ہے وہ تو ملک کے وفادار ہونے کی وجہ سے باوجو د اس کے کہ اُن پر قانونا بعض