خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 490
490 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 30 ستمبر 2011ء خطبات مسرور جلد نهم سے بڑھ کر اُس سے محبت کرتا ہے اور اپنے بندے کا مولیٰ اور ولی ہو جاتا ہے اور جس کا ولی خد ا ہو جائے اُس کو یہ عارضی مخالفتیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتیں۔چند او باش لوگ یا بڑوں کے بھڑ کانے پر چند چھوٹے بچے جو پتھر مار کر مسجد کے شیشے توڑ جاتے ہیں یا گند پھینک جاتے ہیں وہ یا تو یہ خود تھک ہار کر بیٹھ جائیں گے یا آپ کا خدا سے تعلق دیکھ کر ان میں سے سعید فطرت خود آپ میں شامل ہو جائیں گے۔انشاء اللہ پس جیسا کہ میں نے کہا۔یہ مسجد بنانا آپ کے کام کی انتہا نہیں ہے بلکہ اس کے بعد مزید اپنی حالتوں کی طرف دیکھنے اور جائزے لیتے رہنے کی ضرورت ہے۔اپنے خدا سے اپنی محبت کے معیار دیکھنے کی ضرورت ہے۔ماحول میں خدا تعالیٰ سے محبت کے اظہار کی اس لئے ضرورت ہے تا کہ دنیا کو پتا لگے ، دنیا کو یہ پتا چلے کہ خدا تعالیٰ کی محبت کی خاطر قربانیاں کرنے والے کبھی ناکام نہیں ہوتے۔پس یہ چھوٹا موٹا پتھر اؤ یا گند پھینکنا، یا نعرے لگانا اللہ والوں کی ترقی میں کبھی روک نہیں بنا اور نہ بن سکتا ہے۔پس مسجدیں آباد کرنے والوں کی پہلی نشانی یہ ہے کہ وہ خدا تعالیٰ سے محبت کرتے ہیں اور اپنے ایمان اور ایقان میں بڑھتے چلے جاتے ہیں۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ، مومن کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ جب اُنہیں اللہ اور رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تو اُن کا جواب سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا (البقرة: 286) ہوتا ہے۔یعنی ہم نے سنا اور ہم نے مان لیا۔اللہ تعالیٰ سَمِعنا وَأَطَعْنَا کا جواب دینے والوں کے بارے میں فرماتا ہے کہ أُولبِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (آل عمران:105) کہ یہ لوگ کامیاب ہونے والے ہیں۔پس کامیابی نتیجہ ہے ، سنتے ہی اطاعت کرنے کا، جو اللہ اور رسول کے نام پر جو احکامات دیئے جائیں ان کو سنتے ہی اطاعت کرنے کا نتیجہ کامیابی ہے۔اور یہ سننا اور اطاعت کرنا اُن تمام باتوں کے لئے ہے، جن کے کرنے اور نہ کرنے کا قرآنِ کریم میں ذکر ہے مثلاً قرآن کریم فرماتا ہے کہ ”اپنی امانتوں کا حق ادا کرو۔“ آپ کی امانتیں آپ کی ذمہ داریاں ہیں۔ایک ذمہ داری جس طرح پڑتی ہے انسان اسے ادا کرنے کی کوشش کرتا ہے، امانتیں جو آپ کے سپرد کی گئی ہیں وہ بھی اسی طرح کی ذمہ داری ہے۔جن کے کرنے کا آپ کو حکم ہے۔عہدے دار ہیں تو اُن کا جماعت کے لئے وقت دینا اور انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے اپنے فرائض ادا کرنا۔افراد جماعت کے حقوق کی ادائیگی کی کوشش کرنایہ امانتیں ہیں۔ایک (جماعتی) عہدے دار کوئی دنیاوی عہدے دار نہیں ہے جس نے طاقت کے بل پر اپنے کام کر وانے ہیں بلکہ وہ خادم ہے۔حدیث میں بھی آتا ہے کہ قوم کا سردار قوم کا خادم ہوتا ہے۔(الجامع الصغير حرف السين صفحہ 292 حديث 4751 دارالكتب العلمية بيروت 2004ء) پس اس خدمت کے جذبے کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔تبھی جو خدمت جو امانت آپ کے سپر د ہے آپ اُس کا حق ادا کر سکتے ہیں۔میرے پاس جب بعض لوگ آکر یہ کہتے ہیں کہ میرے پاس فلاں فلاں عہدہ ہے تو میں عموماً یہ کہا کرتا ہوں کہ یہ کہو کہ فلاں خدمت میرے سپر د ہے۔دوسرا تو بیشک عہدیدار کہے لیکن خود اپنے آپ کو خادم سمجھنا چاہئے اور یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے خدمت کا موقع دیا ہوا ہے۔کیونکہ عہدہ کہنے سے سوچ میں فرق پڑ جاتا ہے۔ایک بڑے پن کا احساس زیادہ ہو جاتا ہے ، بڑے پن کا احساس اس طرح کہ دماغ میں ایک افسرانہ شان