خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 491 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 491

491 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 30 ستمبر 2011ء خطبات مسرور جلد نهم پیدا ہو جاتی ہے، جبکہ عہدے دار ، جماعتی عہدے دار ایک خادم ہوتا ہے۔اور جب عہدے دار اپنی امانتوں کے حق ادا کر رہے ہوں گے تبھی وہ خلافت کے، خلیفہ وقت کے حقیقی مدد گار بن رہے ہوں گے۔عہدے داروں کی عزت اور احترام افراد جماعت پر یقینا فرض ہے۔لیکن وہ یہ صرف اس لئے کرتے ہیں کہ اُن کی افراد جماعت کی خلافتِ احمدیہ سے وابستگی ہے اور کسی عہدے دار کے حکم کی نافرمانی کر کے وہ خلیفہ وقت کو ناراض نہیں کرنا چاہتے۔پس ہر سطح کے عہدے داروں کے لئے یہ ضروری ہے کہ اپنی ذمہ داریوں کے حق صحیح طور پر ادا کرنے کی کوشش کریں۔ہر عہدے دار کا رکھ رکھاؤ، بول چال، عبادت کے معیار دوسروں سے مختلف ہونے چاہئیں، ایک فرق ہونا چاہئے۔لجنہ کی عہدیدار ہیں تو انہیں مثلاً قرآنی حکم میں ایک پردہ ہے اُس کا خیال رکھنا ہو گا ورنہ وہ اپنی امانت کا حق ادا نہیں کر رہی ہوں گی۔باقی احکام تو ہیں لیکن مردوں سے زیادہ عورتوں کو ایک زائد حکم پر دے کا بھی ہے۔ناروے کے بارے میں پردے کی شکایات وقتا فوقتا آتی رہتی ہیں۔حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے بھی ایک وقت میں بڑی سخت تنبیہہ کی تھی۔اسی طرح حضرت خلیفۃ المسیح الرابع بھی سمجھاتے رہے۔لیکن آپ جو عہد ید اران ہیں اگر اب بھی آپ کے پر دے کے معیار نہیں ہیں۔عورتوں مردوں میں میل جول آزادانہ ہے ، ایک دوسرے کے گھروں میں بغیر پردے کے آزادانہ آنا جانا ہے اور مجلسیں جمانا ہے جبکہ کوئی رشتے داری وغیرہ بھی نہیں ہے ، صرف یہ کہہ دیا کہ فلاں میر ابھائی ہے اور فلاں میر امنہ بولا چا یاماموں ہے اور اس لئے حجاب کی ضرورت نہیں یا اور اسی طرح کے رشتے جوڑ لئے تو قرآن اس کی نفی کرتا ہے اور ایک مؤمنہ کو تاکیدی حکم دیتا ہے کہ تمہارے پر پر دہ اور حجاب فرض ہے۔حیاء کا اظہار تمہاری شان ہے۔اگر لجنہ کی ہر سطح کی عہدے دار خواہ وہ حلقہ کی ہوں ، شہر کی ہوں یا ملک کی ہوں، اگر عہدے دار اپنے پر دے ٹھیک کر لیں اور اپنے رویے اسلامی تعلیم کے مطابق کر لیں تو ایک اچھا خاصہ طبقہ باقیوں کے لئے بھی، اپنے بچوں کے لئے بھی اور اپنے ماحول کے لئے بھی نمونہ بن جائے گا، ایک لجنہ کی عہدیدار کا امانت کا حق تبھی ادا ہو گا جب وہ اور باتوں کے ساتھ ساتھ اپنے پردہ کا حق بھی ادا کر رہی ہو گی۔مجھے بعض کے پردہ کا حال تو ملاقات کے دوران پتہ چل جاتا ہے جب اُن کی نقابیں دیکھ کر یہ ظاہر ہو رہا ہوتا ہے کہ بڑے عرصے کے بعد یہ نقاب باہر آئی ہے جس کو پہننے میں دقت پیدا ہو رہی ہے۔پس عہدے دار بھی اور ایک عام احمدی عورت کا بھی یہ فرض ہے کہ اپنی امانتوں کا حق ادا کریں۔آج کل اپنے زعم میں بعض ماڈرن سوچ رکھنے والے کہہ دیتے ہیں کہ پردے کی اب ضرورت نہیں ہے یا حجاب کی اب ضرورت نہیں ہے اور یہ پرانا حکم ہے۔لیکن میں واضح کر دوں کہ قرآنِ کریم کا کوئی حکم بھی پرانا نہیں ہے۔اور نہ کسی مخصوص زمانے اور مخصوص لوگوں کے لئے تھا۔احمدی مرد اور عور تیں خلافت سے وابستگی کا اظہار بڑے شوق