خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 489 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 489

489 خطبات مسرور جلد نهم خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 30 ستمبر 2011ء اس کی کوشش کرتے رہیں گے نیکیوں میں بڑھنے کی کوشش کرتے رہیں گے۔اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول کے بتائے ہوئے راستے پر چلنے کی کوشش کرتے رہیں گے ہم مؤمنین اور حقیقی مسلمانوں کے زمرے میں شمار ہوتے رہیں گے۔پس ہمیں کسی مولوی، مفتی کے فتوے یا کسی حکومت کے فیصلے نے مؤمن ہونے اور حقیقی مسلمان ہونے کا سر ٹیفکیٹ نہیں دینا نہ کسی کی سند چاہئے ، نہ ہمیں اس کی ضرورت ہے۔ہمارے ایمان پر اصل مہر ہماری اللہ اور اُس کے رسول کے احکامات پر چلنے کی کوشش نے لگانی ہے۔جس قدر ہم کوشش کرنے والے ہوں گے اُسی قدر ہماری مہریں لگتی چلی جائیں گی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ ایک حقیقی مسلمان کا عمل جو اُسے انعامات کا وارث بنائے گا صرف یہ نہیں کہ ایک دو یا چند ایک نیک عمل کر لئے بلکہ تمام اعمالِ صالحہ بجالانے کی طرف توجہ ہو گی تو حقیقی مؤمن انسان بن سکتا ہے۔پس ہمیں صرف اس بات پر خوش نہیں ہو جانا چاہئے کہ ہم نے زمانے کے امام اور مسیح موعود کو مان لیا اور یہ کافی ہے۔بیشک ہم نے دوسرے مسلمانوں کی نسبت خدا اور رسول کی اطاعت میں ایک قدم آگے اُٹھا لیا ہے لیکن یہ زندگی تو مسلسل کوشش اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کی تلاش اور ایمان میں بڑھتے چلے جانے کے لئے ہے اور یہی مقصد اللہ تعالیٰ نے انسان کی پیدائش کا بتایا ہے۔عبادت کرو اور اُس میں بڑھتے چلے جاؤ۔پس ایک مؤمن ایک جگہ بیٹھ نہیں سکتا۔اللہ تعالیٰ نے مؤمن کی جو خصوصیات بیان فرمائی ہیں وہ آپ کے سامنے اُن میں سے چند ایک پیش کرتا ہوں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایک مومن کی سب سے بڑی نشانی یہ ہے کہ اَشَدُّ حُبًّا لِلهِ (البقرة: 166) کہ سب سے بڑھ کر وہ اللہ تعالیٰ سے محبت کرتا ہے۔یہ تو ایک ایسے شخص کو جس کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے اُسے بھی پتا ہے کہ جس سے شدید محبت ہو اُس کے لئے کیا کچھ نہیں کیا جاتا۔پس ایک مسلمان جب اپنے ایمان کا دعویٰ کرتا ہے تو اُس کی اللہ تعالیٰ سے محبت تمام محبتوں پر حاوی ہونی چاہئے۔پھر جب یہ صور تحال ہو تو دنیا کی دولت، د نیاوی چمک دمک، دنیا کی مصروفیات، اولاد، بیوی، خاندان سب خدا تعالیٰ کی محبت کے مقابلے میں بیچ ہو جاتے ہیں۔اور ہونے چاہئیں۔اور جب اس کی یہ محبت خدا تعالیٰ کے لئے پیدا ہو گی تو ایسے شخص کی عبادت بھی خالص ہو گی۔اُس کی عبادت کی طرف بھی خاص توجہ ہو گی۔اور جب عبادت کی طرف توجہ پیدا ہو گی تو انشاء اللہ پھر آپ کی یہ مسجد ، یہ نماز سینٹر جہاں بھی ہیں اور آئندہ بننے والی مساجد بھی آباد رہیں گی اور ان کی یہ آبادی حقیقی آبادی کہلائے گی۔جب ہمارے اپنے دل میں خدا تعالیٰ سے محبت کا اظہار ہو رہا ہو گا تو ہماری اولادیں بھی اُس کے اثر لے رہی ہوں گی۔بہت سے لوگ اولاد کے لئے دعا کے لئے کہتے ہیں تو اس کے لئے انہیں اپنے نمونے دکھانے ہوں گے اور جب یہ اثر اولادوں میں جارہا ہو گا تو نتیجہ نسلاً بعد نسل اللہ تعالیٰ سے محبت کا اظہار اور مساجد کی آبادی ہوتی رہے گی اور ہم پر فرض ہے کہ جہاں ہم خدا تعالیٰ سے یہ محبت اپنے اندر پیدا کریں اور اُس کے لئے کوشش کریں وہاں اپنی اولا دوں اور نسلوں کو بھی اس محبت کی چاٹ لگانے کی کوشش کریں۔اور جب یہ ہو گا تو انشاء اللہ تعالیٰ یہ مخالفتیں اور مخالفین کی کوششیں اللہ تعالیٰ کے فضل سے اپنی موت آپ مر جائیں گی۔کیونکہ جب بندہ خدا سے محبت کرتا ہے تو خدا اس