خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 469
469 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 16 ستمبر 2011ء خطبات مسرور جلد نهم بھی میں قرآن پڑھتا تھا اور سمجھنے کی کوشش کرتا تھا۔ایک دن میں ٹی وی کے آگے بیٹھا کوئی مذہبی چینل تلاش کر رہا تھا کہ مجھے ایم۔ٹی۔اے مل گیا جہاں پروگرام الْحِوَارُ الْمُبَاشَر“ چل رہا تھا جس کا انداز اور علمیت اور مضمون مجھے پسند آیا۔اور خاص طور پر پروگرام میں شریک علماء کا تمام ادیان کے بارے میں علم اور خصوصاً اسلامی علوم پر گرفت نے مجھے متاثر کیا۔چنانچہ میں اسی لمحے سے احمدی ہوں اور میری روحانیت میں بہت اضافہ ہوا ہے۔اور مجھے لکھتے ہیں کہ آپ کے خطبات، بہت سی عربی اور فرنچ کتابیں اور رسائل میرے پاس ہیں۔میں نے تفسیر کبیر بھی ڈاؤن لوڈ کر کے پرنٹ کرلی ہے تاکہ لوگوں سے رابطہ کرنے میں آسانی رہے۔لکھتے ہیں کہ بیعت میں تاخیر اس لئے کی کہ میں خود کو بظاہر احمدی سمجھتا تھا لیکن نورِ ایمان میرے دل میں راسخ نہیں ہوا اور مجھے ڈر لگا کہ عہد بیعت کی خلاف ورزی نہ کرنے والا ٹھہروں۔لکھتے ہیں کہ دعا کریں کہ خدا تعالیٰ مجھے ہدایت عطا فرمائے اور مغفرت فرمائے اور استقامت بخشے۔پس یہ فکریں ہیں نئے آنے والوں کی۔بہت سارے پرانے احمدی جو بزرگوں کی اولادیں ہیں اُن کو بھی یہ فکریں اپنے اندر پیدا کرنی چاہئیں کہ ہم نے عہد بیعت کو کس طرح اپنی تمام تر طاقتوں کے ساتھ نبھانا ہے اور اُسے پورا کرنا ہے تبھی ہم حقیقی احمدی کہلا سکتے ہیں۔پھر ایک ناصر صاحب ہیں۔یہ بھی عرب ہیں۔کہتے ہیں کہ چار سال قبل میرے اندر حق کی تلاش شروع ہوئی اور میں نے سنیوں اور شیعوں اور اثنا عشریوں وغیرہ سب کے مناظرات دیکھے۔(اثنا عشری بھی شیعوں کا ایک فرقہ ہے جو بارہ اماموں کو مانتے ہیں)۔کہتے ہیں کہ سب کے مناظرات دیکھے اور مجھے سنیوں کے دلائل مضبوط نظر آئے۔پھر تقریباً تین ماہ قبل اتفاق سے میرا تعارف ایم۔ٹی۔اے سے ہوا اور مکرم ہانی طاہر صاحب نے میری توجہ کھینچی اور میری دلچسپی جماعت میں بڑھی اور معلوم ہوا کہ جماعت کے بارے میں جو باتیں لوگوں میں پھیلائی جاتی ہیں اُن کی بنیاد جماعت کے مخالف مولویوں احسان الہی ظہیر وغیرہ کی کتابوں پر ہے۔اسی طرح اپنے معاشرے میں موجود علماء کا اپنے سے خیالات میں اختلاف رکھنے والے لوگوں کے عقائد کے بارے میں رویے نے مجھے بڑا پریشان کیا کیونکہ یہاں ہمارے پاس کچھ شیعہ ہیں اور لوگ ان سے تمسخر اور تحقیر سے پیش آتے ہیں۔میں ہمیشہ اپنے دل میں یہ کہا کر تا تھا کہ مذہب کے معاملے میں کسی کو طعن کا نشانہ نہیں بنانا چاہئے۔کیونکہ ہمارے والدین بھی تو شیعہ یا نصاری وغیرہ تھے اور ہمیشہ کہا کرتا تھا کہ اگر میں حق پر ہوں تو مجھے دوسروں کے لئے دعا کرنی چاہئے نہ کہ اُن کی تحقیر اور تکبر سے کام لینا چاہئے کیونکہ یہی انبیاء کی سنت ہے۔اسی طرح سلفیوں کے عقائد کو بھی میں صحیح نہیں سمجھتا۔میں اصولی طور پر مکرم بانی صاحب کے بیان کردہ دلائل سے متفق ہوں۔مجھے مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کے مزید دلائل مہیا فرمائیں اور یہ کہ بیعت کے بعد مجھے کیا کرنا ہو گا۔میری مدد اور رہنمائی فرمائیں۔تو اس طرح لوگ خط لکھتے ہیں۔پھر عراق کے ایک غریب محمد صاحب ہیں۔یہ کہتے ہیں کہ تین سال سے ایم۔ٹی۔اے دیکھ رہا ہوں اور تحقیق کر رہا تھا پھر استخارہ کیا لیکن کئی روز تک کوئی خواب نہ دیکھی۔تاہم استخارہ جاری رکھا۔پھر ایک روز خواب میں