خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 468
خطبات مسرور جلد نهم 468 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 16 ستمبر 2011ء پھر سلطنت عمان کے ایک یاسر صاحب ہیں۔انہوں نے جون 2011ء میں لکھا کہ ایک عرصے سے حق کی تلاش میں تھا جسے اب پالیا ہے۔الحمد للہ۔مسلمانوں کی موجودہ حالت کو دیکھ کر شدت سے خواہش ہوتی تھی کہ کاش آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اُمت کی ترقی کی خاطر دوبارہ آجائیں۔ایک بار مختلف چینل گھما رہا تھا کہ اچانک ایم۔ٹی۔اے کو دیکھنے کا اتفاق ہوا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تصویر دیکھ کر یوں لگا جیسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تصویر ہو۔یہ تصویر دل میں گھر کر گئی۔ایک روز کسی دوست نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ظہور کے بارے میں ذکر کیا اور دجال کے بارے میں بتایا کہ اس سے مراد عیسائی پادری ہیں۔میں نے شروع میں اس کی سخت مخالفت کی لیکن بعد میں حقیقت کھل گئی۔اس رات دو بجے تک ایم۔ٹی۔اسے دیکھتا رہا اور جماعت اور حضرت مسیح موعود کے ساتھ محبت بڑھتی گئی۔اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے صحیح اسلام کی طرف رہنمائی فرمائی اور قبول کرنے کی توفیق بخشی۔یہ لکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود کی کتب اور حضرت خلیفہ ثانی کی تفسیر کبیر پڑھی اور بہت پسند آئیں اور پھر مجھے لکھتے ہیں کہ آپ سے ملاقات کا بہت شوق ہے۔دعا کریں۔تو یہ لوگ نہ صرف بیعت کر رہے ہیں بلکہ بیعت کر کے اپنے علم کو بڑھا بھی رہے ہیں۔یہ اُن لوگوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے جو اپنے آپ کو پیدائشی احمدی سمجھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ بس ہمارے خون میں احمدیت ہے تو اب مزید علم حاصل کرنے کی ہمیں ضرورت نہیں ہے۔اپنے تقویٰ کو ، نیکیوں کے معیاروں کو بڑھانے کی ضرورت نہیں ہے۔پھر ایک خاتون ہیں، بیریفان صاحبہ، ان کے دو بچے بھی ہیں۔ناروے میں رہتی ہیں اور کر دستان کی ہیں۔کہتی ہیں کہ 2006ء میں اچانک ایم۔ٹی۔اے دیکھنے کا اتفاق ہوا۔آپ کی باتیں اور اسلام کی صحیح تصویر آپ سے سن کر بہت خوشی ہوئی۔بعد میں اس چینل کا نمبر کہیں گم ہو گیا۔اچانک 2010ء میں ایک روز پھر مل گیا۔پروگرام الْحِوَارُ الْمُبَاشِر “ چل رہا تھا۔آپ کے دلائل تفسیر قرآن سن کر بہت متاثر ہوئی۔پروگرام کے آخر پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تصویر دکھائی گئی۔آپ کی صداقت پر ایک لمحے کے لئے بھی شک نہ ہوا۔تاہم افسوس ہوا کہ ابھی تک آپ کے بارے میں پتہ کیوں نہ چلا۔البتہ آپ کے نبی ہونے کے بارے میں خلش تھی جو جماعت کی طرف سے دی گئی تفسیر و تشریح سے دور ہو گئی۔اب میں گواہی دیتی ہوں کہ حضرت مرزا غلام احمد علیہ السلام بچے امام مہدی ہیں۔پھر لکھتی ہیں کہ آپ جو خدمت کر رہے ہیں اس کو بہت رشک کی نگاہ سے دیکھتی ہوں اور اس جہاد میں شریک ہونا چاہتی ہوں۔براہِ کرم مجھے بھی اس کا موقع دیں۔تو یہ وہ خو بصورت جہاد ہے جس کی تعلیم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دی ہے اور قرآن اور حدیث سے علم پاکر دی ہے۔یہ جہاد ہے جو آپ نے اس زمانے میں متعارف کروایا ہے جو صرف مردوں کے لئے نہیں ہے بلکہ مردوں کے شانہ بشانہ عور تیں بھی اس جہاد میں حصہ لے رہی ہیں اور لیتی ہیں۔بلکہ بعض اوقات مردوں سے بڑھ کر حصہ لے رہی ہیں۔پھر حسین محمد صالح صاحب ہیں۔یہ الجزائر کے ہیں۔مجھے لکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ تقریباً دس سال قبل مجھے اسلام کا کچھ علم نہ تھا سوائے اس رسمی اسلام کے جو سب لوگ جانتے ہیں اور کئی ایک مسائل کا سامنا تھا لیکن پھر