خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 470 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 470

470 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 16 ستمبر 2011ء خطبات مسرور جلد نهم کوئی مجھے کہتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں یاد فرمارہے ہیں۔پھر وہ شخص مجھے لے گیا اور کہنے لگا کہ اس خیمے میں جا کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مصافحہ کرو۔تب میں نے ایک ٹیلے کے اوپر لگے خیمے میں جا کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے مصافحہ کیا۔پھر وہی شخص کہنے لگا کہ اب دوسرے ٹیلے پر جا کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مصافحہ کرو۔میں خواب میں حیران ہوتا ہوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دو کیسے ہو سکتے ہیں؟ تاہم میں نے دوسرے ٹیلے پر بھی خیمے کے اندر آنحضرت کو اُسی شکل و صورت میں دیکھا گو قد ذرا سا کم تھا۔اس خواب کے بعد مجھے انشراح صدر ہوا اور اب بیعت کرنا چاہتا ہوں۔سب سے اچھی بات مجھے یہ لگتی ہے کہ جماعت میں ہر ملک و قوم کے لوگ بغیر تمیز رنگ و نسل کے شامل ہو رہے ہیں۔پس تمام دنیا کو ایک ہاتھ پر اکٹھا کرنے کا جو کام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سپر د ہے وہ آج صرف جماعت احمد یہ کر رہی ہے۔پھر ایک صاحب ہیں خالد صاحب، کہتے ہیں کہ ایک روز ایک غیر احمدی دوست نے جماعت کے بارے میں بتایا کہ یہ لوگ ہندوستان میں مسیح موعود کے ظہور کے قائل ہیں۔بعض دیگر عقائد بھی بتائے۔مجھے شروع سے ہی اطمینانِ قلب نصیب ہونے لگا۔پھر ایم۔ٹی۔اے دیکھا تو مزید تسلی ہوئی اور میں نے اس دوست کو بتایا کہ میں بیعت کرنا چاہتا ہوں۔اُس نے تعجب سے کہا کہ کیا تم پاگل ہو گئے ہو۔میں نے کہا کہ میرا دل مطمئن ہے اور میں بیعت کرنا چاہتاہوں۔قبل ازیں میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صرف تصویر دیکھ کر آپ کی صداقت کا قائل ہو چکا تھا۔ایم۔ٹی۔اے سے اسلام کی صحیح تصویر کا علم ہوا۔الحمدللہ کہ اس کے ذریعے امام الزمان کا پتہ ملا۔تقریباً ایک سال قبل خواب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے چہرے پر بوسہ دیا تھا۔خاکسار نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنی حکومت اور حاکموں اور خراب حالات کا شکوہ کیا۔پھر لکھتے ہیں کہ آپ لوگوں نے ہماری آنکھیں کھولیں اور اندھیروں سے نکال کر حق دکھایا ہے۔جزاکم اللہ۔پھر مجھے لکھتے ہیں کہ میری تمنا ہے کہ میں آپ کی دستی بیعت کروں۔ایسے بہت سارے واقعات اور ہیں سب کی تفصیل تو بیان نہیں ہو سکتی۔پھر ایک واقعہ افریقہ سے میں نے لیا ہے۔امیر صاحب گیمبیا لکھتے ہیں کہ بارہ ایریا میں وہاں کے مقامی جماعت کے صدر صاحب کی نگرانی میں تبلیغی پروگرام تشکیل دیا گیا۔اس پروگرام کے ذریعے ایک دوست علیو کمار صاحب سے رابطہ ہوا۔(افریقہ میں اکثر ایسا ہے کہ نام کے ساتھ آخر میں ”واؤ“ یا ”پیش لگا دیتے ہیں۔علیو کا مطلب ہے ”علی“۔علی کمارا صاحب۔یہ مسلمان تھے ) ان کو جماعت کے عقائد کے بارے میں بتایا گیا۔ان کے ساتھ دو ہفتے تک مسلسل تبادلہ خیال ہو تا رہا۔پھر صدر صاحب نے اُن سے کہا کہ آپ خدا تعالیٰ سے ہدایت طلب کریں اور میں بھی آپ کے لئے دعا کروں گا۔خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ اُسی دن پچپیں اور چھبیس مئی 2011ء کی درمیانی رات انہوں نے خواب دیکھا کہ ایک پگڑی والے بزرگ ہیں جو اُن کو اپنی طرف بلا رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ ادھر آؤ ہدایت یہاں ہے۔صبح اٹھ کر انہوں نے خواب بتائی تو کہنے لگے کہ جس بزرگ کو میں نے خواب میں دیکھا ہے وہی امام مہدی ہیں کیونکہ ان کی تصویر وہ ایک