خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 466
خطبات مسرور جلد نهم 466 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 16 ستمبر 2011ء تحقیق میں نے ان کو تبلیغ بھی کی۔ایک طرف جیل میں اذیتیں دی جارہی تھیں۔دوسری طرف یہ تبلیغ کر رہے تھے۔ایک متعلقہ افسر نے کہا کہ میں آپ کے دلائل سُن کر وفات مسیح کا قائل ہو گیا ہوں۔انہوں نے جہاد کے بارے میں ان کی رائے پوچھی تو میں نے بتایا کہ ہم صرف دفاعی جہاد کے قائل ہیں۔تو دیکھیں مقصد احمدیت سے ہٹانا تھا لیکن خود ان کو قائل ہونا پڑا۔صرف آپ اپنے دام میں صیاد نہیں آیا بلکہ شکار شکاری کے دام میں آ گیا۔یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی لائی ہوئی خوبصورت تعلیم کا لوگوں پر اثر ہے۔کہتے ہیں کہ انہوں نے جماعت کے بارے میں اور مصر میں احمدیوں کے بارے میں مختلف سوالات پوچھے۔نیز یہ کہ تم تبلیغ کیوں کرتے ہو؟ میں نے کہا کہ میں از خود کسی کو تبلیغ نہیں کرتا لیکن اگر وہ مجھ سے پوچھے تو میں ضرور بتاؤں گا کیونکہ احمد کی جھوٹ نہیں بولتے۔اب یہ ایک خصوصیت ہے جو ایک احمدی کا نشان ہے ، دنیا میں ہر جگہ جھوٹ چل رہا ہے۔پچھلے خطبے میں میں نے جھوٹ کے اوپر بڑی تفصیل کے ساتھ بیان کیا تھا۔پس یہ ہمیں بھی یاد رکھنا چاہئے ، ہر ایک کو یاد رکھنا چاہئے کہ اس اپنی ایک عظیم خاصیت کو کبھی کسی احمدی کو چھوڑنا اور بھولنا نہیں چاہئے۔نئے آنے والے آ کے یہ معیار قائم کرتے ہیں اور اس پر پابندی سے استقامت سے عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہم نے جھوٹ نہیں بولنا کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت میں آکر اپنے دلوں میں جو ایک پاک تبدیلی پیدا کرنی ہے وہ اُسی وقت پید اہو سکتی ہے جب ہر چیز ہر قدم آپ کا صدق کا قدم ہو اور ہر بات آپ کی صدق کی بات ہو۔پس یہ ایک شان ہے احمدی کی جسے قائم رکھنا ہر احمدی کا فرض ہے کہ احمدی جھوٹ نہیں بولتا۔کہتے ہیں ، انہوں نے کہا یعنی پولیس والوں نے کہ اگر تم نے تبلیغ جاری رکھی تو ہم تم پر بم بلاسٹ کرنے کا الزام لگا کر تمہیں سزا دیں گے۔یہاں تک ان کی مخالفتیں ہوتی ہیں۔لیکن انہوں نے کہا کہ مجھے کوئی پرواہ نہیں بلکہ کہتے ہیں کہ میری بیوی کو بھی مولویوں نے کہا کہ تمہارے خاوند نے تجھے دھوکہ دے کر اس جماعت میں داخل کیا ہے لیکن بیوی بھی ایمان میں پختہ تھی۔اُس نے اپنی ایمان کی پختگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ میں اس سے پہلے احمدی ہوں۔پس یہ ہے جرآت اور شان جو آج حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت نے ایمان میں پیدا کی ہے۔پھر الجزائر کے ایک دوست اُسامہ صاحب ہیں۔کہتے ہیں دو سال قبل تک جماعت کے بارے میں کچھ نہ جانتا تھا۔ایک روز اچانک بیٹے نے ایم۔ٹی۔اے کے بارے میں بتایا لیکن میں نے ہنسی مذاق میں ٹال دیا۔پھر ایک وقت میں گھر یلو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا تب انبیاء کی زندگی اور مذہبی امور کے بارے میں غور و خوض کرنے لگا۔آپ کا چینل دیکھا تو اس میں سارا حق پایا۔آپ کی تعلیمات اور تفاسیر سے دل مطمئن ہوا۔تفسیر کبیر کا مطالعہ شروع کیا اور تفاسیر سے دل مطمئن ہوا اور پھر تبلیغ شروع کر دی لیکن مخالفت کا سامنا ہوا۔تب سابق انبیاء کی سیرت پر نظر ڈالی تو اس قسم کی مخالفت وہاں بھی نظر آئی جیسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ہوتی ہے۔وغیرہ وغیرہ۔لکھتے ہیں کہ براہِ کرم میری بیعت قبول فرمائیں۔میں ہر طرف سے حضور کے حکموں پر عمل کروں گا۔عجیب اخلاص و وفا میں بڑھنے والے یہ لوگ ہیں۔