خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 467 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 467

خطبات مسرور جلد نهم 467 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 16 ستمبر 2011ء پھر مراکش میں الطیب صاحب ہیں۔اپنے واقعات بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر عیسائیوں کا ”حیاۃ چینل“ نہ ہو تا تو مجھے بیعت کی توفیق نہ ملتی۔تفصیل اس کی یہ بیان کرتے ہیں کہ میں کافی عرصے سے یہ چینل دیکھتا رہا ہوں اور اُن کی حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گالیاں سُن کر اور مسلمانوں کو جواب سے عاجز آکر خاموشی اختیار کرتے دیکھ کر دل ہی دل میں گڑھتا لیکن کچھ پیش نہ جاتی۔اچانک ایک دن ہاٹ برڈ ریسیور پر چینل گھما رہا تھا کہ مجھے ایم۔ٹی۔اے العربیہ مل گیا۔( یہ آجکل سپین میں مقیم ہیں) حالانکہ میں بالعموم ہاٹ برڈ کے چینل نہیں دیکھتا۔بہر حال اس پر عصمت انبیاء اور بائبل کی تحریف وغیرہ پر عیسائیوں کے ساتھ بحث ہو رہی تھی۔میں سُن کر بہت خوش ہوا کہ مجھے اپنے مطلب کی چیز مل گئی اور گم شدہ متاع ہاتھ آگئی۔کچھ عرصہ دیکھنے کے بعد میری تسلی ہو گئی اور میں بیعت کا خط ارسال کر رہا ہوں۔اب میں ان مولویوں کے ہد ہد اور نملہ اور جنوں وغیرہ کے بارے میں مضحکہ خیز تفسیریں سنتا ہوں تو ہنسی آتی ہے۔حالانکہ اس سے پہلے انہی کوشن کر تعریفیں کرتے تھے۔پھر مراکش کے ایک عبد اللہ صاحب ہیں۔کہتے ہیں کہ میں چند ماہ سے آپ کے پروگرام دیکھ رہا ہوں اور مجھے آپ کا قرآنِ کریم کے مضامین کا ادراک اور تعمیری اسلامی طرزِ فکر بہت پسند آیا۔یہ معروف بات ہے کہ روایتی تفاسیر میں بہت سی خرافات موجود ہیں اور غلط تفاسیر جو لوگوں کے دل و دماغ میں راسخ ہو گئی ہیں اور ان میں منطق اور عقل کے خلاف باتیں موجود ہیں مثلاً جنوں کے بارے میں یہ خیال کہ وہ لوگوں کو چمٹ جاتے ہیں اور غیر مرئی، غیر معمولی مخلوق ہے کو میں پہلے ہی رد کرتا تھا۔بعض جگہ بعض کمزور احمدیوں کو جن کی تعلیم صحیح نہیں ہے یا علم حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔خاص طور پر عورتوں میں اب بھی اس قسم کی وہا ہے۔گو چند ایک ہی آن پڑھ اور جاہل ہیں لیکن میں نے سنا ہے یہاں بھی ایسی ہیں۔اُن کو بھی یادرکھنا چاہئے کہ ہر عقل مند انسان جو ہے اس کو رد کرتا ہے۔یہ کوئی چیز نہیں ہے۔کہتے ہیں کہ ایک دن میں نے اپنے افسر سے حضرت آدم کے پہلے انسان نہ ہونے کے بارے میں بات کی اور میں نے کہا کہ فرشتوں نے جو یہ کہا کہ یہ فساد کرے گا اور خون بہائے گا تو اگر پہلے سے انسان موجود نہ تھے تو فرشتوں کو کیسے معلوم ہوا کہ بشر کے اندر خون ہوتا ہے وغیرہ۔تو اس افسر نے کہا کہ یہ بہت خطرناک خیالات ہیں۔انہیں کسی کے پاس بیان مت کرنا۔پھر لکھتے ہیں کہ پھر اچانک آپ کے چینل سے تعارف ہوا تو قرآنِ کریم کے زندہ اور روشن کتاب ہونے کے بارے میں آپ کے بیان سے بہت خوش ہوا۔فی اور احسانوں والے خدا نے حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کو مبعوث فرمایا اور آپ کو اپنے نورانی اسرار الہام کئے تا کہ اس کے ذریعے لوگوں کی عقلوں میں پڑے شکوک و شبہات کے اس ڈھیر کا صفایا کر دیا جائے جس نے عقل کو ماؤف کر چھوڑا تھا اور جس کے نتیجے میں عرب تمدنی اور تہذ یہی ترقی کے قافلہ سے بہت پیچھے رہ گئے ہیں اور گراوٹ اور انحطاط اور پستی اور تفرقہ کا شکار ہو چکے ہیں۔مجھے لکھتے ہیں کہ حضور ! میری بیعت قبول فرمائیں۔مجھے آج جماعت احمدیہ میں شامل ہو کر بڑے فخر کا احساس ہو رہا ہے۔فضلوں