خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 417 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 417

خطبات مسرور جلد نهم 417 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 19 اگست 2011ء اب یہ ايَّاكَ نَعْبُدُ ہے لیکن ان ساری باتوں پر یقین نہیں ہے، ایک پریشان حالی ہے۔پس جب اللہ تعالیٰ نے ہماری خوش بختی کا خیال رکھتے ہوئے ایسی دعا سکھائی ہے جس میں عبودیت کا حق ادا کرتے ہوئے دعا کرنے کی طرف ترغیب بھی ہے اور قبولیت کا وعدہ بھی تو کسی قدر اس پر غور کر کے اس دعا کو کرنے کی ضرورت ہے۔کیونکہ آگے پھر اِيَّاكَ نَعْبُدُ کے بعد اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کہا گیا۔جب شرمساری کی ایسی حالت پیدا ہوتی ہے اور انسان اپنے آپ کو کچھ نہیں سمجھتا تو پھر اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کی دعا کرتا ہے ، تب پھر اللہ تعالیٰ پھر مدد کے لئے آتا ہے۔پھر فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔” ( اور پھر ) وَ اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کہو۔( یعنی جب یہ حالت پید ا ہو جائے گی پھر ایاک نَستَعِينُ ) یعنی ہم تجھ سے ہی مدد مانگتے ہیں ذوق ، شوق، حضورِ قلب، بھر پور ایمان ( ملنے) کے لئے ، روحانی طور پر ( تیرے احکام پر ) لبیک کہنے (کے لئے) سرور اور نور (کے لئے) اور معارف کے زیورات اور مسرت کے لباسوں کے ساتھ دل کو آراستہ کرنے کے لئے ( تجھ سے ہی مدد طلب کرتے ہیں) تاہم تیرے فضل کے ساتھ یقین کے میدانوں میں سبقت لے جانے والے بن جائیں اور اپنے مقاصد کی انتہا کو پہنچ جائیں اور حقائق کے دریاؤں پر وارد ہو جائیں۔“ (کرامات الصادقین روحانی خزائن جلد نمبر 7 صفحه 121) ( ترجمه از تفسیر حضرت مسیح موعود جلد اول صفحہ 191-192) پس یہ دعا روحانیت میں ترقی، عبادت کا شوق اور ذوق اور خالص ہو کر اللہ تعالیٰ کے آگے جھکنے اور ایمان میں ترقی کا باعث بنتی ہے۔اس بات کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہ اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ (الفاتحہ: 5) میں عبودیت کی معراج کیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : پھر اللہ تعالیٰ کے الفاظ اِيَّاكَ نَعْبُدُ میں ایک اور اشارہ ہے اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ اس( آیت) میں اپنے بندوں کو اس بات کی ترغیب دیتا ہے کہ وہ اس کی اطاعت میں انتہائی ہمت اور کوشش خرچ کریں اور اطاعت گزاروں کی طرح ہر وقت لبیک لبیک کہتے ہوئے (اس کے حضور ) کھڑے رہیں گویا کہ یہ بندے یہ کہہ رہے ہیں کہ اے ہمارے رب! ہم مجاہدات کرنے تیرے احکام کے بجالانے اور تیری خوشنودی چاہنے میں کوئی کو تاہی نہیں کر رہے لیکن تجھ سے ہی مدد چاہتے ہیں اور مجیب اور ریاء میں مبتلا ہونے سے تیری پناہ مانگتے ہیں اور ہم تجھ سے ایسی توفیق طلب کرتے ہیں جو ہدایت اور تیری خوشنودی کی طرف لے جانے والی ہو اور ہم تیری اطاعت اور تیری عبادت پر ثابت قدم ہیں پس تو ہمیں اپنے اطاعت گزار بندوں میں لکھ لے“۔(کرامات الصادقین روحانی خزائن جلد نمبر 7 صفحه 121)( ترجمه از تفسیر حضرت مسیح موعود جلد اول صفحہ 192) پس جب یہ سوچ اور دعا ہو گی کہ اطاعت اور عبادت پر ثابت قدم ہیں اور رہنا ہے تو پھر احکامات کی بجا آوری اور عبادتوں کے معیار حاصل کرنے کی کوشش بھی ہو گی۔ایک نماز کے بعد اگلی نماز کی ادائیگی کی فکر بھی ہو گی، جیسا کہ حدیث میں آیا ہے ایک مومن ایک نماز کے بعد اگلی نماز کی فکر کرتا ہے اور ایک جمعہ کے بعد اگلے جمعہ کی فکر کرتا ہے ، ایک رمضان کے بعد اگلے رمضان کی فکر کرتا ہے تا کہ عبادتوں کا حق ادا کر سکے۔(صحیح مسلم كتاب الطهارة باب الصلوات الخمس والجمعة الى الجمعة۔۔۔حدیث نمبر 552)