خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 416 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 416

416 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 19 اگست 2011ء خطبات مسرور جلد نهم تکیہ کرے۔کیونکہ اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔جس کو چاہے دھتکار دیتا ہے اور جس کو چاہے اپنے خاص بندوں میں داخل کر لیتا ہے“۔( پھر فرمایا کہ "ايَّاكَ نَسْتَعِينُ میں نفس امارہ کی شر انگیزی کی شدت کی طرف اشارہ ہے جو نیکیوں کی طرف راغب ہونے سے یوں بھاگتا ہے جیسے ان سدھی اونٹنی سوار کو اپنے اوپر بیٹھنے نہیں دیتی اور بھاگتی ہے۔یا وہ ایک اژدہا کی طرح ہے جس کا شر بہت بڑھ گیا ہے اور اس نے ہر ڈسے ہوئے کو بوسیدہ ہڈی کی طرح بنا دیا ہے اور تو دیکھ رہا ہے کہ وہ زہر پھونک رہا ہے یا وہ شیر ( کی طرح) ہے کہ اگر حملہ کرے تو پیچھے نہیں ہٹتا۔کوئی طاقت، قوت، کمائی، اندوختہ (کارآمد) نہیں سوائے اس خدا تعالیٰ کی مدد کے جو شیطانوں کو ہلاک کرتا ہے“۔(کرامات الصادقین روحانی خزائن جلد نمبر 7 صفحه 120 ( ترجمه از تفسیر حضرت مسیح موعود جلد اول صفحہ 190-191) پس جب دعا کرتے ہوئے یہ سوچ بھی ایک انسان رکھتا ہے یا رکھے کہ نفس امارہ مجھے برائیوں میں مبتلا کرنے کی طرف لے جارہا ہے اور میں نے اس سے بچنا ہے تو، یہ سوچ ہونی چاہئے کہ میں اپنی کوشش اور طاقت سے نہیں بچ سکتا، اس وقت صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے جو شیطان کے حملوں سے بچا سکتا ہے اور نیکیوں کی توفیق دے سکتا ہے۔پس بندہ عاجز ہو کر اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑا ہو اور دعا کرے کہ اے اللہ ! آج مجھے شیطان سے بچانے والا صرف تو ہی ہے۔اگر خدا تعالیٰ کے پیارے لوگ جو اس عاجزی سے اللہ تعالیٰ سے مانگتے ہیں اور مانگتے چلے جاتے ہیں اور وہ اللہ کی مدد کے بغیر نہیں رہ سکتے تو ایک عام انسان کو کس قدر خدا تعالیٰ سے مانگنا چاہیے ؟ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف کی مثال دی ہے جب انہوں نے نفس امارہ سے بچنے کی دعامانگی تھی کہ وَمَا أُبَرِی نَفْسِی إِنَّ النَّفْسَ لَأَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ إِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّي إِنَّ رَبِّي غَفُورٌ رَّحِيمٌ (يوسف:54)۔یعنی اور میں اپنے نفس کو غلطیوں سے بری قرار نہیں دیتا۔کیونکہ انسانی نفس سوائے اُس کے جس پر اللہ رحم کرے بری باتوں کا حکم دینے پر بڑا دلیر ہے۔میر ارب بہت بخشنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔پس یہ دعا اور سوچ ہے جو پھر اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ (الفاتحہ: 5) کی دعا سے فیضیاب کرتی ہے۔جب انسان دل میں یہ خیال کرے کہ اللہ تعالیٰ کے مقرب بھی یہ دعا مانگنے والے ہیں تو ہمیں کس قدر دعائیں مانگنی چاہئیں۔تبھی پھر ایک انسان صحیح عبد بن سکتا ہے۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ : اور نَعبُدُ کو نَسْتَعِین سے پہلے رکھنے میں اور بھی کئی نکات ہیں جنہیں ہم ان لوگوں کے لئے یہاں لکھتے ہیں جو سارنگیوں کی رُوں رُوں پر نہیں بلکہ قرآنی آیات مثانی ( سورۃ فاتحہ سے شغف رکھتے ہیں اور مشتاقوں کی طرح ان کی طرف لپکتے ہیں اور وہ ( نکات) یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ایک ایسی دعا سکھاتا ہے جس میں اُن کی خوش بختی ہے اور کہتا ہے اے میرے بندو! مجھ سے عاجزی اور عبودیت کے ساتھ سوال کرو اور کہواے ہمارے رب ايَّاكَ نَعْبُدُ ( ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں) لیکن بڑی ریاضت، تکلیف ، شرمساری، پریشان خیالی اور شیطانی وسوسہ اندازی اور خشک افکار اور تباہ کن اوہام اور تاریک خیالات کے ساتھ ہم سیلاب کے گدلے پانی کی مانند ہیں۔یارات کو لکڑیاں اکٹھا کرنے والے کی طرح ہیں اور ہم صرف گمان کی پیروی کر رہے ہیں ہمیں یقین حاصل نہیں“۔(کرامات الصادقین روحانی خزائن جلد نمبر 7 صفحه 120-121) ( ترجمه از تفسیر حضرت مسیح موعود جلد اول صفحہ 191)