خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 418 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 418

418 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 19 اگست 2011ء خطبات مسرور جلد نهم پھر اعلیٰ اخلاق کے حصول کی کوشش بھی ہو گی اور یہی عبودیت کی معراج حاصل کرنے کی کوشش ہے۔اور پھر اس بات کی وضاحت فرماتے ہوئے کہ یہ دعا اپنی نسلوں، اور اپنے خاندان اور اپنی جماعت کے لئے بھی ہے تا کہ سب کے سب دھارے ایک ہی طرف بہہ رہے ہوں اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کرنے والے ہوں اور ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے والے بھی ہوں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں : اور یہاں ایک اور اشارہ بھی ہے اور وہ یہ کہ بندہ کہتا ہے کہ اے میرے ربّ! ہم نے تجھے معبودیت کے ساتھ مخصوص کر رکھا ہے اور تیرے سوا جو کچھ بھی ہے اس پر تجھے ترجیح دی ہے پس ہم تیری ذات کے سوا اور کسی چیز کی عبادت نہیں کرتے اور ہم تجھے واحد و یگانہ ماننے والوں میں سے ہیں۔اس آیت میں خدائے عزوجل نے متکلم مع الغیر کا صیغہ اس امر کی طرف اشارہ کرنے کے لئے اختیار فرمایا ہے“ (” ہم “ کہہ کے دوسرے کو بھی جو اپنے ساتھ شامل کیا ہے تو وہ اس لئے شامل فرمایا ہے ) کہ یہ دعا تمام بھائیوں کے لئے ہے نہ صرف دعا کرنے والے کی اپنی ذات کے لئے اور اس میں ( اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو باہمی مصالحت، اتحاد اور دوستی کی ترغیب دی ہے اور یہ کہ دعا کرنے والا اپنے آپ کو اپنے بھائی کی خیر خواہی کے لئے اسی طرح مشقت میں ڈالے جیسا کہ وہ اپنی ذات کی خیر خواہی کے لئے اپنے آپ کو مشقت میں ڈالتا ہے۔( اب اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ (الفاتحه:5) کی دعا جب انسان پڑھ رہا ہو تو دوسرے کا حق ادا کرنے کی طرف توجہ پیدا ہو گی، یہ احساس ہو گا کہ اگر میں نے اللہ تعالیٰ کی بندگی کا حق ادا کرنا ہے اور میں اپنے لئے، اپنے حقوق کے لئے، یا اپنی روحانی ترقی کے لئے یہ دعامانگ رہا ہوں تو ساتھ ہی میں اپنے بھائی کے لئے بھی وہی سوچ رکھوں۔تو جب یہ سوچ ہو گی تو ایک حسین معاشرہ پیدا ہو گا۔فرماتے ہیں کہ یہ سوچ ہو کہ) اپنے بھائی کی خیر خواہی کے لئے اسی طرح مشقت میں ڈالے جیسا کہ وہ اپنی ذات کی خیر خواہی کے لئے اپنے آپ کو مشقت میں ڈالتا ہے۔پس جب اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ (الفاتحه: 5) کی صحیح سوچ ہو تو پھر کسی کے حقوق غصب کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔فرمایا اور اس کی (یعنی اپنے بھائی کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے ایسا ہی اہتمام کرے اور بے چین ہو جیسے اپنے لئے بے چین اور مضطرب ہو تا ہے اور وہ اپنے اور اپنے بھائی کے درمیان کوئی فرق نہ کرے اور پورے دل سے اس کا خیر خواہ بن جائے۔گو یا اللہ تعالی تاکیدی حکم دیتا ہے اور فرماتا ہے اے میرے بندو! بھائیوں اور محبوں کے ( ایک دوسرے کو) تحائف دینے کی طرح دعا کا تحفہ دیا کرو“۔(إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ (الفاتحه: 5) میں جب جمع کیا گیا ہے کہ ہم تیری عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے مدد مانگتے ہیں تو یہ دعا کا تحفہ ہے اپنے بھائیوں کے لئے۔) فرمایا ”دعا کا تحفہ دیا کرو( اور انہیں شامل کرنے کے لئے ) اپنی دعاؤں کا دائرہ وسیع کرو اور اپنی نیتوں میں وسعت پیدا کرو۔اپنے نیک ارادوں میں (اپنے بھائیوں کے لئے بھی) گنجائش پیدا کر و اور باہم محبت کرنے میں بھائیوں، باپوں اور بیٹیوں کی طرح بن جاؤ۔“ (کرامات الصادقین روحانی خزائن جلد نمبر 7 صفحہ 121-122) (ترجمه از تفسیر حضرت مسیح موعود جلد اول صفحہ 192-193)