خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 415 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 415

خطبات مسرور جلد نهم 415 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 19 اگست 2011ء پس فرمایا کہ اس میں شکر کرنے کی ترغیب دی ہے کہ انسان شکر گزار بندہ بنے۔صبر ، دعا کی ترغیب دی ہے تاکہ تم پھر اس صبر کی وجہ سے، اس مستقل مزاجی سے دعا کی وجہ سے مستقل شکر کرنے والوں اور صبر کرنے والوں میں شامل ہو جاؤ جن کو پھر اللہ تعالیٰ انعامات سے نوازتا ہے۔فرمایا کہ ”پھر ان( آیات) میں ترغیب دی گئی ہے بندے کے اپنی طرف ہمت اور قوت کی نسبت کی نفی کرنے کی، اور (اس سے) آس لگا کر اور امید رکھ کر ہمیشہ سوال، دعا، عاجزی اور حمد کرتے ہوئے ( اپنے آپ کو) اللہ سبحانہ کے سامنے ڈال دینے کی۔“ (کرامات الصادقین روحانی خزائن جلد نمبر 7 صفحه 120 ) ( ترجمه از تفسیر حضرت مسیح موعود جلد اول صفحہ 189) یعنی اپنے آپ کو کچھ نہ سمجھنا۔انسان کے ذہن میں یہ ہونا چاہئے کہ سب طاقتوں کا مالک اور ربّ اللہ ہے۔اس لئے اُس کے آگے اپنے آپ کو ڈال دو۔اسی طرح تمام دنیاوی وسیلوں اور رشتوں سے اللہ تعالیٰ سے تعلق کے مقابلے میں لا تعلقی حاصل کر لو۔جب یہ حالت ہو گی کہ نہ اپنے زور بازو پر بھر وسہ ہو گا، نہ اپنے نفس اور طاقت پر بھروسہ ہو گا، نہ دنیا کے وسیلوں اور طاقتوں پر بھروسہ ہو گا تو تب ہی انسان سے إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ (الفاتحہ: 5) کی حقیقی دعا نکلے گی۔پھر اس طرف توجہ دلاتے ہوئے کہ انسان کو ، ایک دعا کرنے والے کو اپنی کمزوری کا مکمل اعتراف ہو تو تبھی وہ اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ (الفاتحہ:5) کا حق ادا کر سکتا ہے ، فرماتے ہیں: اسی طرح ان ( آیات) میں اس امر کا اقرار اور اعتراف کرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے کہ ہم تو بہت کمزور ہیں۔تیری دی ہوئی توفیق کے بغیر تیری عبادت نہیں کر سکتے اور تیری مدد کے بغیر ہم تیری رضا کی راہوں کی تلاش نہیں کر سکتے۔ہم تیری مدد سے کام کرتے ہیں اور تیری مدد سے حرکت کرتے ہیں اور ہم تیری طرف جلن کے ساتھ ان عورتوں کی طرح جو اپنے بچوں کی موت کے غم میں گھل رہی ہوتی ہیں اور ان عاشقوں کی طرح جو محبت میں جل رہے ہوتے ہیں تیری طرف دوڑتے ہیں“۔فرمایا ” پھر ان آیات میں کبر اور غرور کو چھوڑنے کی “ پہلی جو بات تھی اس میں تو یہ فرمایا کہ تمہارے دل میں اللہ تعالیٰ کو حاصل کرنے کی ایک جلن اور درد اور تڑپ ہونی چاہئیے اور اس کی مثال دی کہ اس طرح جلن جس طرح کوئی عورت اپنے بچے کی موت میں گھل رہی ہوتی ہے یا ایسے عاشق کی جلن جو اپنے محبوب کے عشق میں ، محبت میں جل رہا ہوتا ہے۔)۔پھر فرماتے ہیں کہ ان آیات میں کبر اور غرور کو چھوڑنے کی نیز معاملات کے پیچیدہ ہونے اور مشکلات کے گھیر لینے پر محض اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملنے والی) طاقت اور قوت پر بھروسہ کرنے کی اور منکسر المزاج لوگوں میں شامل ہونے کی ( ترغیب ہے) گویا کہ ( اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے میرے بندو اپنے آپ کو مردوں کی طرح سمجھو اور ہر وقت اللہ تعالیٰ سے قوت حاصل کرو۔پس تم میں سے نہ کوئی جوان اپنی قوت پر اتر ائے اور نہ کوئی بوڑھا اپنی لاٹھی پر بھروسہ کرے اور نہ کوئی عقل مند اپنی عقل پر ناز کرے اور نہ کوئی فقیہ اپنے علم کی صحت اور اپنی سمجھ اور اپنی دانائی کی عمدگی ہی پر اعتبار کرے اور نہ کوئی ملہم اپنے الہام یا اپنے کشف یا اپنی دعاؤں کے خلوص پر