خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 414 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 414

خطبات مسرور جلد نهم آپ فرماتے ہیں کہ : 414 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 19 اگست 2011ء اللہ تعالیٰ نے جملہ ايَّاكَ نَعْبُدُ کو جملہ اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ سے پہلے رکھا ہے اور اس میں (بندہ) کے توفیق مانگنے سے بھی پہلے اس ( ذات باری) کی ( صفت ) رحمانیت کے فیوض کی طرف اشارہ ہے گویا کہ بندہ اپنے رب کا شکر ادا کرتا ہے اور کہتا ہے اے میرے پروردگار ! میں تیری ان نعمتوں پر تیرا شکر ادا کر تا ہوں جو تو نے میری دعاء میری درخواست، میرے عمل، میری کوشش اور جو ( تیری) اس ربوبیت اور رحمانیت سے جو سوال کرنے والوں کے سوال پر سبقت رکھتی ہے۔میری استعانت سے پیشتر تو نے مجھے عطا کر رکھی ہیں۔پھر میں تجھ سے ہی (ہر قسم کی قوت، راستی، خوشحالی اور کامیابی اور اُن مقاصد کے حاصل ہونے کے لئے التجا کرتا ہوں جو درخواست کرنے، مددمانگنے اور دعا کرنے پر ہی عطا کی جاتی ہیں اور تو بہترین عطا کرنے والا ہے۔“ (کرامات الصادقین روحانی خزائن جلد نمبر 7 صفحہ 119-120) (ترجمه از تغییر حضرت مسیح موعود جلد اول صفحہ 189) پس جب بندہ اللہ تعالیٰ کے احسانوں کو یاد کر کے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمانیت کی وجہ سے کئے ہیں اللہ تعالیٰ کا شکر گزار بنتا ہے تو یہ عبادت اور حقیقی عبد بننے کی طرف پہلا قدم ہے۔جب اس مقام کا ادراک ایک بندہ حاصل کر لیتا ہے تو پھر عبادت میں آگے بڑھنے کی کوشش ہوتی ہے۔پھر بندہ اپنے خدا سے کہتا ہے کہ یہ جو تو نے عبد بننے کے معیار حاصل کرنے کے مختلف معیار رکھے ہیں، اُن کو بھی میں حاصل کرنا چاہتا ہوں۔تیری ہر قسم کی نعمتوں سے بھی میں حصہ لینا چاہتا ہوں۔اپنی روحانی اور مادی ترقی کے مزید سامان چاہتا ہوں، لیکن یہ سب کچھ تیری مدد کے بغیر نہیں ہو سکتا۔پس میری مدد فرما اور پھر اللہ تعالیٰ کی مدد کے دروازے بھی کھلتے ہیں اور ترقی کی منزلیں بھی طے ہوتی ہیں۔تو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمانیت کی وجہ سے جو انعامات دیئے ہیں جب اُن کے شکر گزار بنو گے تو پھر عبادت کی طرف بھی توجہ پیدا ہو گی پھر اُس کی مدد کی طرف حاصل کرنے کی طرف توجہ پیدا ہو گی۔پس یہ ہے وہ بنیادی نقطہ اور روح جس کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ (الفاتحه: 5) کی دعا کرنی چاہئے۔پھر آپ اس بات کی وضاحت فرماتے ہوئے کہ اس دعا کی طرف کیوں اللہ تعالیٰ نے توجہ دلائی ہے ، فرماتے ہیں : اور ان آیات میں ان نعمتوں پر شکر کرنے کی ترغیب ہے جو تجھے دی جاتی ہیں اور جن چیزوں کی تجھے تمنا ہو ان کے لئے صبر کے ساتھ دعا کرنے اور کامل اور اعلیٰ چیزوں کی طرف شوق بڑھانے کی ( ترغیب ہے) تا ئم بھی مستقل شکر کرنے والوں اور صبر کرنے والوں میں شامل ہو جاؤ۔پھر ان (آیات) میں ترغیب دی گئی ہے بندے کے اپنی طرف ہمت اور قوت کی نسبت کی نفی کرنے کی اور (اس سے) آس لگا کر اور امید رکھ کر ہمیشہ سوال، دعا، عاجزی اور حمد کرتے ہوئے ( اپنے آپ کو اللہ سبحانہ کے سامنے ڈال دینے کی اور خوف اور امید کے ساتھ اس شیر خوار بچہ کی مانند جو دایہ کی گود میں ہو ( اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کا محتاج سمجھنے کی ( ترغیب) ہے اور تمام مخلوق سے اور زمین کی سب چیزوں سے موت ( یعنی پوری لاتعلقی ) کی۔“ (کرامات الصادقین روحانی خزائن جلد نمبر 7 صفحه 120) (ترجمه از تغییر حضرت مسیح موعود جلد اول صفحہ 189-190)