خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 413
413 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 19 اگست 2011ء خطبات مسرور جلد نهم موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ دعا کے واسطے بھی دعا ہی کی ضرورت ہے۔اور یہ سب کچھ ، یہ مقصدِ پیدائش کا حصول خدا کی مدد اور استعانت کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا۔ہم صرف اپنی کوشش سے اپنی پیدائش کے مقصد کو نہیں پاسکتے۔اللہ تعالیٰ جو اپنے بندوں پر بے انتہا مہربان ہے اُس نے قرآنِ کریم کی پہلی سورۃ میں ہی ہمیں یہ دعا سکھا دی اور پانچ فرض نمازوں اور سنتوں اور نوافل کی ہر رکعت میں اس دعا کا پڑھنا ضروری قرار دیا ہے کہ اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ (الفاتحه: 5) کہ اے اللہ ! ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں۔تیری عبادت کرنا چاہتے ہیں لیکن ہم اس کا حق ادا نہیں کر سکتے جب تک تیری مدد شامل حال نہ ہو۔پس ایک روح کے ساتھ ، ایک دل کی گہرائی کے ساتھ نکلی ہوئی عاجزانہ پکار کے ساتھ جب ایک مومن اللہ تعالیٰ کے حضور فریاد کرتا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ اس کو توفیق بھی ، عطافرماتا ہے۔پھر یہ بھی اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر احسان ہے کہ ہر سال رمضان کا مہینہ لا کر اللہ تعالیٰ اپنے قریب ہونے کا اعلان فرماتا ہے۔یہ اعلان فرماتا ہے کہ میں نے شیطان کو بھی جکڑ دیا ہے۔یہ اعلان فرماتا ہے کہ میں ہر اُس بندے کی مدد اور استعانت کے لئے تیار ہوں، بلکہ اُس کی مدد کرتا ہوں جو خالص ہو کر میری طرف آتا ہے ، میرے پر کامل ایمان رکھتا ہے، میرے حکموں پر عمل کرتا ہے۔آئندہ سے خالص ہو کر صرف اور صرف میری عبادت کرنے اور میر اخالص عبد بنے کا وعدہ کرتا ہے تو پھر میں اپنے ایسے بندوں کی دعائیں قبول کرتا ہوں، سنتا ہوں۔پس اگر کہیں کمی ہے تو ہم بندوں میں کمی ہے۔خدا تعالیٰ کے احسانوں اور اعانت میں کمی نہیں ہے۔پھر اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے فرستادے کو ہماری اصلاح کے لئے بھیج دیا ہے جو اُس عبد کامل صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام کے طور پر آیا ہے جس نے پھر ہمیں خدا تعالیٰ سے ملانے اور اُس کا عبد بننے ، اُس کی عبادتوں میں طاق ہونے ، اُس کی اعانت حاصل کرنے والا بننے کے طریق سکھلائے ہیں۔پس اس وقت میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے فرمودات اور ارشادات کی روشنی میں ہی اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ (الفاتحہ: 5) کی کچھ وضاحت کروں گا۔جس بار یکی اور گہرائی سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ (الفاتحه : 5 ) کا مطلب سمجھایا ہے ، اگر ہم اس کو سمجھ کر اپنی زندگیوں کا حصہ بنانے والے بن جائیں، اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرما دے) تو پھر ہم خدا تعالیٰ کی عبودیت کا حق ادا کرنے کی کوشش کرنے والے بھی بن جائیں گے۔اور یہ تب ہی ہو سکتا ہے جب ہم اپنی عبادتوں کے بھی معیار حاصل کرنے کی کوشش کریں اور پھر عاجزی سے اُن معیاروں کو حاصل کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے حضور جھکیں اُس کی مدد چاہیں۔جب یہ ہو گا تو تب ہی ہم اُن لوگوں میں سے کہلا سکیں گے جو عبد رحمن کہلاتے ہیں۔ایمان میں اُس پختگی کو پیدا کرنے والے بن سکیں گے جس کا اللہ تعالیٰ حکم فرماتا ہے۔یا جس کی ایک مومن سے توقع کی جا سکتی ہے یا کی جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو جو عرفان عطا فرمایا اس خزانے میں سے جو آپ نے اپنے لٹریچر میں ہمیں مہیا فرمائے ہیں چند جو اہر پیش کروں گا۔