خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 412 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 412

خطبات مسرور جلد نهم 412 33 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 19 اگست 2011ء خطبہ جمعہ فرموده 19 اگست 2011ء بمطابق 19 ظہور 1390 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح لندن، (برطانیہ) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ ”اصلی اور حقیقی دعا کے واسطے بھی دعا ہی ( ملفوظات جلد نمبر 3 صفحہ 397 مطبوعہ ربوہ) کی ضرورت ہے۔پھر آپ نے ایک موقع پر فرمایا کہ “ ایک مرتبہ میں نے خیال کیا کہ صلوۃ میں اور دعا میں کیا فرق ہے ؟ جو حدیث میں آیا ہے ، صلوۃ ہی دعا ہے ، نماز عبادت کا مغز ہے”۔(ماخوذ از ملفوظات جلد نمبر 4 صفحہ 283 مطبوعه ربوہ) پھر فرماتے ہیں کہ “یاد رکھو۔یہ نماز ایسی چیز ہے کہ اس سے دنیا بھی سنور جاتی ہے اور دین بھی ”۔فرمایا: نماز تو وہ چیز ہے کہ انسان اس کے پڑھنے سے ہر ایک طرح کی بد عملی اور بے حیائی سے بچایا جاتا ہے ”۔فرمایا: “ اس طرح کی نماز پڑھنی انسان کے اپنے اختیار میں نہیں ہوتی۔یعنی ایسی نماز جو بد عملی اور بے حیائی سے بچاتی ہے ، بیشک اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے لیکن فرمایا کہ یہ اپنے اختیار میں نہیں ہوتی اور فرمایا کہ “ یہ طریق خدا کی مدد اور استعانت کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا”۔ایسی نماز جو بد عملی اور بے حیائی سے بچائے، ایسی عبادت جو صحیح رستے پر ڈالنے والی ہو ، بے حیائی سے ( ملفوظات جلد نمبر 5 صفحہ 403 مطبوعہ ربوہ) بچانے والی ہو ، وہ بغیر اللہ تعالیٰ کی مدد کے نہیں مل سکتی۔یہ تمام باتیں ہمیں اس بات کی طرف توجہ دلانے کی طرف رہنمائی کرتی ہیں کہ ہماری عبادتیں اور دعائیں کیسی ہونی چاہئیں۔دعائیں کرنے کے لئے ہمیں کیا طریق اختیار کرنا چاہئے ؟ ان عبادتوں اور دعاؤں کے ہماری حالتوں پر کیا نتائج مترتب اور ظاہر ہونے چاہئیں؟ یہ عبادتیں اور دعائیں اور نمازیں کس طرح اللہ تعالیٰ کے حضور قبولیت کا درجہ پاسکتی ہیں۔اگر یہ باتیں سمجھ آجائیں اور انسان اس بات کا فہم و ادراک حاصل کر لے کہ عبادت ہی ہے جو انسان کی پیدائش کا مقصد ہے اور اس مقصد کو حاصل کرنے سے ہی اُس کی دنیا و آخرت سنور سکتی ہے تو تمام دوسری باتوں اور چیزوں کو چھوڑ کر وہ اس اہم مقصد کو حاصل کرنے کی کوشش کرے۔لیکن جیسا کہ حضرت مسیح