خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 395 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 395

خطبات مسرور جلد نهم 395 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 05 اگست 2011ء چوہدری حمید اللہ صاحب نے مجھے بتایا۔وہ لمبا عرصہ امداد گندم کمیٹی کے صدر رہے ہیں انہوں نے بتایا کہ صدر لجنہ ربوہ کی طرف سے جو سفارش امداد کی آتی تھی وہ یقین ہو تا تھا کہ مکمل تحقیق کے بعد آئی ہے اور جائز سفارش ہے۔مزید تحقیق کی ضرورت نہیں ہے۔آپ کی صدارت صرف انتظامی اور دفتری حد تک نہیں تھی ، بلکہ لجنہ ربوہ کی صدر ہونے کے ناطے تقریباً ہر گھر سے ذاتی رابطہ بھی تھا۔ربوہ کی لجنہ کی تنظیم پہلے مرکزی لجنہ کے زیر انتظام تھی۔جنوری 1953ء میں یہ فیصلہ ہوا کہ لجنہ ربوہ کی تنظیم کو مرکز سے، مرکزی لجنہ سے علیحدہ کر دیا جائے لیکن صدر لجنہ ربوہ مرکزی عاملہ کی ممبر ہو گی۔بہر حال اس فیصلہ کے مطابق ربوہ کے محلہ جات کی طرف سے جب یہ رائے لی گئی کہ کس کو صدر بنایا جائے تو متفقہ طور پر صاحبزادی ناصرہ بیگم صاحبہ کو صدر بنانے کی تجویز آئی۔یہ تاریخ لجنہ میں لکھا گیا ہے۔اور ان آراء کی روشنی میں پھر آپ کو صدر لجنہ ربوہ مقرر کیا گیا۔غالباً 1988ء یا89ء تک آپ صدر رہی ہیں اُس کے بعد آپ نے اپنی کمزوری صحت کی وجہ سے معذرت کی لیکن تب بھی عاملہ کے ایک ممبر کی حیثیت سے لجنہ کے کام کرتی رہی ہیں۔غالباً سیکرٹری خدمتِ خلق رہی ہیں۔آپ کی صدارت کے دور میں لجنہ ربوہ تقریباً ہر شعبہ میں نمایاں کار کردگی دکھاتی رہیں۔مجھے واقف کاروں کی طرف سے تعزیت کے جو خط آرہے ہیں اُن میں تقریباًہر خط میں ایک بات مشترک ہے کہ جب بھی ملنے گئے بڑی خندہ پیشانی سے ملتی تھیں۔مہمان نوازی کرتی تھیں۔موسم کے لحاظ سے جو بھی چیز ہوتی تھی پیش کرتی تھیں۔بچوں سے حسن سلوک ہو تا تھا۔فراست اور قیافہ شناسی بھی بڑی تھی۔چہرے دیکھ کر حالات کا اندازہ کر کے پھر حالات پوچھتیں اور دعاؤں اور نیک تدبیروں کی طرف توجہ دلا تیں۔اولاد کی تربیت کے بارے میں بھی دعاؤں کی طرف توجہ دلاتیں۔یہاں مہمان نوازی کا ذکر ہوا ہے تو بتادوں کہ جیسا کہ میں نے بتایا کہ لمبا عرصہ لجنہ کی صدر رہیں۔تو ربوہ کے مختلف محلہ جات کی صدرات تھیں اور عاملہ ممبرات کے اجلاس بڑا لمبا عرصہ ہمارے ہی گھر میں ہوتے تھے۔ہمارے گھر کا ایک بڑا وسیع بر آمدہ تھا، پینتیس چالیس فٹ لمبا تو کم از کم ہو گا اُس میں انتظامات ہوتے تھے۔اور اجلاس والے دن ہمیں عصر کے فوراً بعد گھر سے نکلنا پڑتا تھا کیونکہ پھر تمام کمروں کے راستے بند ہو جاتے تھے اور گھر پر لجنہ کا قبضہ ہو تا تھا۔اگر اندر ہیں تو پھر دو گھنٹے کمرے کے اندر ہی رہنا پڑتا تھا کیونکہ راستہ کوئی نہیں۔اور پھر یہ کہ اتنے بڑے مجمع کی عورتوں کی جو تعداد تھی ڈیڑھ دو سو عورت ہوتی تھی ان کو چائے یا شربت جو بھی موسم کے لحاظ سے ضروری چیز ہوتی تھی وہ پیش کی جاتی تھی، ساتھ کھانے کے لئے کچھ پیش ہو تا تھا۔اور یہ سب کچھ وہ اپنے طور پر کرتی تھیں۔مہمان نوازی کے بارہ میں میرے ایک کلاس فیلو سعید صاحب تھے انہوں نے لکھا کہ میں ایک دفعہ تمہارے ساتھ بیٹھا ہوا تھا تو ایک حاجی صاحب ہوتے تھے جو کبھی کبھی آیا کرتے تھے۔وہ آئے تو آپ صحن میں پھر رہی تھیں۔باہر سے ہی ان کی آواز سن لی، تو میری والدہ نے مجھے آواز دی کہ جاؤ حاجی صاحب آئے ہیں۔انہیں اندر بٹھاؤ اور کھانے کا وقت ہے پوچھو کہ کھانا تو نہیں کھانا؟ تو اس طرح مہمان نوازی کی طرف بہت توجہ تھی۔