خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 396 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 396

396 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 05 اگست 2011ء خطبات مسرور جلد نهم دوسروں کی ہمدردی کا ذکر ہے تو ایک صاحب نے مجھے لکھا کہ اُن کے علم میں ( میری والدہ کے علم میں) آیا کہ اُن کے حالات اچھے نہیں ہیں اور پھر بچوں کو بھی باہر بھجوانے کی کوشش ہے تو انہوں نے ایک دن کسی کے ہاتھ اپنی جائے نماز بھجوائی کہ اس پر میں نے تمہارے لئے اور تمہارے بچوں کے لئے بہت دعا کی ہے۔انشاء اللہ تعالیٰ تمہارے سارے بچوں کے باہر جانے کا انتظام ہو جائے گا۔اور وہ لکھتے ہیں چنانچہ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ایسے غیر معمولی سامان پیدا فرمائے کہ تمام کا انتظام ہو گیا اور جو ایک آدھ بچے کا نہیں تھا اسے بھی کچھ عرصہ پہلے ویزہ مل گیا۔تو لکھنے والے لکھتے ہیں کہ اگر کہو تو دعا تو کرتے ہی ہیں لیکن ہمدردی ایسی ہے کہ بغیر کہے کہیں سے ٹن لیا کہ اس کے حالات ایسے ہیں تو خاص طور پر دعا کی اور پھر پیغام بھجوایا۔ایک دفعہ میری والدہ نے خود ذکر فرمایا۔ایک خواب سنائی تھی، اس کا کچھ حصہ بتاتا ہوں خواب تو یاد نہیں لیکن اتنا ضرور یاد ہے کہ آپ نے فرمایا تھا کہ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دیدار کیا ہے۔اس طرح ایک دفعہ مجھے بتایا کہ جرمنی کے روشن مستقبل یعنی جرمنی میں جماعت کے روشن مستقبل کے بارے میں بھی ایک خواب میں ذکر تھا۔اس مرتبہ جب میں دورہ پہ جرمنی گیا ہوں تو جماعت کے رابطے اور اثر دیکھے ہیں تو مجھے اپنی والدہ کی خواب بھی یاد آ جاتی رہی۔خدا کرے کہ یہ روشن مستقبل کی طرف قدم ہو اور راستے کھلتے چلے جائیں۔انی کی ایک خصوصیت یہ تھی کہ چندوں کا حساب بڑی باقاعدگی سے رکھا کرتی تھیں۔جائیداد سے جو بھی آمد ہوتی تھی پہلے چندہ وصیت اور جلسہ سالانہ پورا حساب سے، تحریک جدید ، وقف جدید جو بھی وعدے ہوتے تھے اور اس کے علاوہ مختلف تحریکات میں اُن کا جو بھی حصہ ہوتا تھا، اُن کی ادائیگی کرتی تھیں اور جب تک میں وہاں رہا ہوں یہ چندوں کی ادائیگی کا حساب مجھ سے کروایا کرتی تھیں۔ادائیگی مجھ سے کروایا کرتی تھیں اور بار بار پوچھتی تھیں کہ حساب صحیح ہو کہیں کم ادائیگی نہ ہو جائے۔بڑی فکر رہتی تھی۔اُن کی مختلف جائیدادوں سے متفرق آمد نیاں تھیں، بعض دفعہ حساب میں اگر کہیں غلط فہمی ہو گئی اور جب بھی اُن کو دوبارہ حساب کر کے کہا کہ اس میں مزید اتنا چندہ ادا کرنا ہے تو فوراً ادا کر دیا کرتی تھیں۔اور اسی طرح چندہ مجلس عام طور پر اس میں لوگ سنتی دکھا جاتے ہیں اس کو بھی اپنی جو آمد تھی اس کے مطابق با قاعدہ دیا کرتی تھیں اور میر اخیال ہے شاید اس آمد کے حساب سے سب سے زیادہ ادا ئیگی انہی کی طرف سے ہوتی ہو کیونکہ بڑی باریکی میں جا کے حساب کیا کرتی تھیں۔ڈاکٹر نوری صاحب نے مجھے تعزیت کا خط لکھا تو اس میں اُن کا ایک خط بھجوایا۔1999ء میں جب میں جیل گیا ہوں تو نوری صاحب نے جیل سے میری رہائی کے بعد ان کو جب مبارکباد کا خط لکھا تو اس کے جواب میں انہوں نے لکھا کہ : عزیزم نوری ! السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔آپ کا خط ملا جس پر عزیزم مسرور کی بخیریت واپسی پر خوشی کا اظہار تھا۔خدا تعالیٰ نے بہت فضل کیا ورنہ دشمنوں کے منصوبے تو بہت خطر ناک تھے۔خدا تعالیٰ نے اپنے فضل وکرم سے اپنی قدرت کا اظہار فرمایا۔جتنا بھی شکر کریں، کم ہے۔قریبار بوہ کے ہر فرد نے اور ربوہ سے باہر بھی