خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 388 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 388

388 خطبات مسرور جلد نهم خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 05 اگست 2011ء اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لئے وہی کوشاں رہتے ہیں، وہی کوشش کرتے ہیں جو اس بات کو بھی سامنے رکھتے ہیں کہ كُل شَيْءٍ هَالِكُ اور صرف ایک ہستی ہے جس کو نہ زوال ہے، نہ موت ہے۔اور ہم نے مرنے کے بعد اس کے حضور حاضر ہونا ہے جہاں ہمارے عملوں کا حساب ہو گا۔پس كُلُّ شَيْءٍ هَالِك میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ سبق دیا ہے کہ بیشک موت برحق ہے، اس سے تو کوئی فرار نہیں۔کوئی انسان نہیں جو موت سے بچ سکے۔لیکن جو لوگ وجہ اللہ میں محو ہو جاتے ہیں وہ نئی زندگی حاصل کر لیتے ہیں، اللہ تعالیٰ کے پیار کی آغوش میں آجاتے ہیں۔یہاں پھر میں واپس اُسی مضمون کی طرف جاتا ہوں کہ وجہ اللہ میں محو ہونے والے کون لوگ ہیں ؟ وہ وہی لوگ ہیں جو اپنے مقصد پیدائش کو پہچاننے والے ہیں۔اس کے مطابق اپنی زندگیوں کو گزارنے والے ہیں۔پس خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو اس دنیا میں، اس مضمون کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، اس پر عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ ہم میں سے ہر ایک کو اس مضمون کو سمجھنے کی اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔یہ رمضان ہمیں اس مقصد کے قریب تر کرنے والا ہو جو ہمارے بزرگوں نے جو اس مضمون کو سمجھتے ہوئے حاصل کرنے کی کوشش کی تھی۔اُس پر چلنے کے لئے جو دعائیں اور کوششیں کی تھیں، نئی نسل میں یہ روح پیدا کرنے کی کوشش کی کہ ہم بھی اپنی حالتوں کو اس کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں۔جب کوئی اپنا پیارا اور بزرگ اس دنیا سے رخصت ہو تا ہے تو اس مضمون کی طرف مزید توجہ پیدا ہوتی ہے اور یقینا ہر اس شخص کو اس مضمون کی طرف توجہ پیدا ہونی چاہئے جس کو خد اتعالیٰ کی ذات پر ایمان اور یقین ہے۔گزشتہ دنوں میری والدہ کی وفات ہوئی۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون۔میں جب بھی اُن کی زندگی پر غور کرتاہوں، اُن کی عبادت کے معیار مجھے نمونہ نظر آتے ہیں۔اُن کا قرآنِ کریم پر غور کرتے ہوئے گھنٹوں پڑھنا مجھے نمونہ نظر آتا ہے۔اُن کی نمازوں میں انہماک اور مغرب کو عشاء سے جوڑنا اور پھر عشاء گھنٹوں لمبی چلنا، وہ میرے سامنے ایک نمونہ ہے۔میری والدہ وہ تھیں جنہوں نے گو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا زمانہ تو نہیں دیکھا لیکن ابتدائی زمانہ دیکھا۔حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا پیار اور دعائیں حاصل کیں۔صحابہ اور صحابیات سے فیض پایا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے قریب کے زمانے کے زیر اثر اور حضرت خلیفتہ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سب سے بڑی بیٹی اور بچوں میں دوسرے نمبر پر ہونے کی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صحبت سے براہِ راست فیض یاب ہونے والوں کی صحبت کا اثر اُن میں نمایاں تھا۔آپ کا اُٹھنا بیٹھنا، بول چال، رکھ رکھاؤ میں ایک وقار تھا اور وقار بھی ایسا جو مومن میں نظر آنا چاہئے۔خدا تعالیٰ سے کو لگانے کی ایک تڑپ تھی۔اس تڑپ کا اظہار آپ نے اپنے شعروں میں بھی کیا ہے۔میں یقینا جیسا کہ میں نے کہا کہ آپ کی نمازوں میں انہماک کو دیکھ کر کہہ سکتا ہوں کہ آپ کے شعر وادیوں میں بھٹکنے والے شاعروں کی زبان دانی اور سطحی الفاظ نہیں تھے بلکہ دل کی آواز تھی۔ایک نظم ہے، اُس کے چند شعر میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں، اللہ تعالیٰ کو مخاطب کر کے فرماتی ہیں کہ۔