خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 387
387 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخه 05 اگست 2011 ء خطبات مسرور جلد نهم اُمید رکھنی چاہئے کہ جو بندے اللہ تعالیٰ کے ہو جاتے ہیں، اُس کی تلاش میں رہتے ہیں ، اپنی نسلوں کی نیکیوں پر قائم رہنے کے لئے تربیت کرتے ہیں، اپنی روحانیت بڑھانے کے لئے کوشاں رہتے ہیں، قرآنی تعلیمات کے پابند رہنے کی کوشش کرتے ہیں وہ اس زندگی سے جو دنیاوی زندگی ہے، اس سے تو بیشک گزر جاتے ہیں یا ان کی یہ زندگی تو ختم ہو جاتی ہے لیکن ایک اور زندگی جو دائمی زندگی ہے جو اس دنیاوی زندگی سے جانے کے بعد انسان کو ملتی ہے اُس کو پالیتے ہیں، اگلے جہان میں اللہ تعالیٰ کے پیار کی آغوش میں آجاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ پیار بھری آواز سنتے ہیں کہ فَادْخُلِي فِي عِبْدِي وَادْخُلِي جَنَّتِي ( الفجر : 31-30)۔پس آاور میرے خاص بندوں میں داخل ہو جا۔اور آاور میری جنت میں داخل ہو جا۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس زمانے میں اس لئے مبعوث ہوئے تھے کہ بندے کو خدا سے ملائیں۔اُسے فَادْخُلِي فِي عِبدِی کا مضمون سمجھائیں تا کہ اُسے دائمی جنتوں اور دائمی زندگی کا وارث بنائیں۔اس نظم میں جو خوشی کے موقع پر لکھی گئی، اس مضمون کا اظہار فرمایا کہ دائمی زندگی کی تلاش کرو۔کیونکہ خدا تعالیٰ کو پائے بغیر زندگی نہیں مل سکتی۔خدا تعالیٰ کو حاصل کئے بغیر یہ دائمی زندگی نہیں مل سکتی۔قرآنِ کریم میں سورۃ قصص میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَلَا تَدْعُ مَعَ اللهِ الهَا أَخَرَ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ كُلُّ شَيْءٍ هَالِكُ إِلَّا وَجْهَهُ لَهُ الْحُكْمُ وَ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ (القصص: 89) اور اللہ تعالیٰ کے سوا کسی معبود کو مت پکار۔اُس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ہر ایک چیز ہلاک ہونے والی ہے سوائے اس کے جس کی طرف اُس کی توجہ ہو ( یعنی خدا تعالیٰ کی طرف توجہ ہو۔وہی بیچنے والی چیز ہے۔باقی سب ہلاک ہونے والی چیزیں ہیں) حکم اُسی کے اختیار میں ہے اور اسی کی طرف سب کالوٹنا ہے۔قف پس یہ مضمون ہے جو ہمیں یاد رکھنا ہے۔یہ وہ طریق ہے جسے ہم نے اپنانے کی کوشش کرنی ہے۔یہ وہ مقصود ہے جسے ہم نے حاصل کرنا ہے کہ یہی ہماری پیدائش کا مقصد ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاریات: 57) کہ ہم نے جن و انس کو نہیں پیدا کیا مگر اس لئے کہ وہ میری عبادت کریں۔پس یہ عبادت کا مفہوم اُس وقت سمجھ آئے گا، اس وقت اس پر عمل کی کوشش ہو گی جب انسان اس یقین پر قائم ہو گا کہ لا الہ الا ھو کہ اُس یعنی اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور تمام چیزیں ہلاک ہونے والی اور فناء ہونے والی ہیں سوائے اُس کے جس کی طرف اللہ کی توجہ ہو۔اور اللہ تعالیٰ اُن کی طرف توجہ کرتا ہے جو نیک نیتی سے اُس کی عبادت کی کوشش کرتے ہیں۔اُسے ایک مانتے ہوئے اُس کے حکموں پر عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے جب عبادت کے طریق بتائے ہیں ، تو عبادت کے ان معیاروں کو حاصل کرنے اور اُنہیں صیقل کرنے کے لئے مختلف مواقع بھی پیدا فرمائے ہیں۔یہ رمضان المبارک جس میں سے ہم گزر رہے ہیں یہ بھی ہر سال اس لئے آتا ہے کہ ہم اپنے پیدا کرنے والے خدا کی پہچان کر کے اپنے آپ کو ہلاکت سے بچائیں۔اپنی نیکیوں کے معیاروں کو بڑھائیں۔اپنی روحانیت کے معیار اونچے کریں۔پس خوش قسمت ہیں وہ جو ان مواقع سے فائدہ اُٹھاتے ہیں اور پھر اللہ تعالیٰ کی بندگی کی ادائیگی کے لئے اس کا عبد بننے کے لئے تمام سال کوشاں رہتے ہیں۔اور مستقل مزاجی سے