خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 389
خطبات مسرور جلد نهم 389 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 05 اگست 2011ء محبت بھی، رحمت بھی، بخشش بھی تیری میں ہر آن تیری رضا چاہتی ہوں اطاعت میں اُس کی سبھی کچھ ہی کھو کر میں مالک کا بس آسرا چاہتی ہوں میرے خانہ دل میں بس تو ہی تو ہو میں رحمت کی تیری رداء چاہتی ہوں ایک مرتبہ ایک جنازہ گزر رہا تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کے ساتھ وہاں کھڑے تھے ، صحابہ نے اُس مرنے والے کی تعریف کی تو آپ نے فرمایا واجب ہو گئی۔بعد میں یہ پوچھنے پر کہ کیا واجب ہو گئی ؟ آپ نے فرمایا۔جنت واجب ہو گئی ( صحیح بخاری کتاب الجنائز باب ثناء الناس علی المتین حدیث نمبر 1367) کیونکہ جس کی نیکیوں کی لوگ تعریف کریں اللہ تعالیٰ اس کی بخشش کے سامان پیدا فرما دیتا ہے۔میری والدہ کی وفات پر جو بیشمار تعزیتی خطوط آرہے ہیں اور جن سے اُن کا براہ راست واسطہ پڑتارہا، سب ہی اُن کے مختلف اوصاف کی تعریف لکھ رہے ہیں۔پس مختلف لوگوں کے یہ خطوط اور جو میں نے انہیں دیکھا ہے اُس سے امید ہے اور دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اُن کی اس دعا کو کہ میں رحمت کی تیری رِداء چاہتی ہوں، قبول کرتے ہوئے اپنی مغفرت اور رحمت کی چادر میں لپیٹ لیا ہو گا۔اے میرے پیارے خدا! تو میری والدہ سے وہ سلوک فرما جو اُس نے اپنی اس دعا میں تجھ سے چاہا اور ہم جو اُن کی اولاد ہیں ہمیں بھی اس مضمون کو سمجھنے والا بنا۔ہمیں بھی اس دنیا میں بھی اور مرنے کے بعد بھی اپنی رحمت کی چادر میں لپیٹے رکھنا اور ہم کبھی اُن توقعات سے دور جانے والے نہ ہوں جو آپ نے اپنی اولاد سے کیں۔بلکہ اللہ تعالیٰ اُن کی آئندہ نسلوں کو بھی اپنی رضا کے حصول کی توفیق عطا فرمائے۔آپ کے متعلق مختصراً لبعض باتوں کا بھی ذکر کر دیتا ہوں۔جیسا کہ میں نے کہا آپ حضرت مصلح موعودؓ کی سب سے بڑی بیٹی اور بچوں میں حضرت خلیفہ المسیح الثالث کے بعد دوسرے نمبر پر تھیں۔آپ حضرت سیدہ محمودہ بیگم صاحبہ جو حضرت ام ناصر کے نام سے جانی جاتی ہیں اُن کے بطن سے اکتوبر 1911ء میں پیدا ہوئیں۔حضرت اُم ناصر سے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نکاح کا واقعہ بھی مختصر بیان کر دیتا ہوں۔یہ نکاح 1902ء میں ہوا۔حضرت اُمّم ناصر سیدہ محمودہ بیگم صاحبہ حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیٹی تھیں۔حضرت خلیفہ رشید الدین صاحب وہ ہیں جن کی مالی قربانیوں کو دیکھتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک دفعہ فرمایا تھا کہ اب یہ مالی قربانیاں نہ بھی کریں تو جو کر چکے ہیں وہ بھی بہت ہیں۔(ماخوذ از تقاریر جلسہ سالانہ 1926ء انوار العلوم جلد 9 صفحہ 403) لیکن بہر حال وہ پھر بھی آخر دم تک مالی قربانیاں کرتے رہے۔1902ء میں نکاح ہو اتھا۔اکتوبر 1903ء میں شادی ہوئی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جب حضرت ڈاکٹر صاحب کو یہ رشتہ تجویز کیا، اس کی تحریک فرمائی تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت خلیفہ رشید الدین صاحب کو لکھا کہ ”اس رشتہ پر محمود