خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 349 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 349

خطبات مسرور جلد نهم 349 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 15 جولائی 2011ء بنیادی نقطہ جو آپ نے بیان فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ مہمان نوازی مکمل عزت واحترام کے ساتھ ہونی چاہئے۔اور یہ عزت و احترام اس لئے ہے کہ مہمان کا حق ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیونکہ کامل شریعت اور احکامات لے کر آئے تھے اس لئے ہر طرح کے لوگوں کا اور ہر پہلو کا آپ نے خیال رکھا ہے۔بعض حدود جو آپ نے مقرر فرمائی ہیں جن کا ان حدیثوں میں ذکر ہے۔وہ مہمانوں کو بھی اُن کے فرض یاد دلانے کے لئے ہیں۔اس حوالے سے بھی انشاء اللہ تعالیٰ اگلے جمعہ بات ہو گی۔لیکن اس وقت جیسا کہ عموماًمیر اطریق ہے، میں میز بانوں اور ڈیوٹی دینے والے کارکنوں کو توجہ دلاتا ہوں۔اس لئے اُن کو توجہ دلا رہا ہوں کہ مہمان نوازی کا وصف ایسا ہے جس کے بارے میں جیسا کہ میں نے بتایا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان کے لئے ضروری ہے اور مہمان کا یہ حق ہے کہ اُس کی مہمان نوازی کی جائے۔اور پھر اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ ”مسافروں کو اُن کا حق دو “ ہم پر یہ فرض عائد کرتا ہے کہ مہمان نوازی کے وصف کو بہت زیادہ اپنائیں۔صرف یہاں جلسے کے دنوں میں نہیں بلکہ عام طور پر گھروں میں بھی مہمان نوازی احمدی مسلمان کا ایک امتیاز ہونا چاہئے۔بہر حال یہاں کیونکہ آج جلسے کے حوالے سے بات ہو رہی ہے ہر کارکن کو اور اُس گھر کو جس میں جلسے کے مہمان آرہے ہیں ، یہ خیال رکھنا چاہئے کہ مہمانوں کو صحیح عزت و احترام دیا جائے۔اگر عام مسافروں کا حق اللہ تعالیٰ نے قائم فرمایا ہے تو اللہ تعالیٰ کی راہ میں سفر کرنے والوں کا تو بہت زیادہ حق ہے کہ اُن کو عزت و احترام دیا جائے اور اُن کا حق ادا کیا جائے۔انشاء اللہ تعالیٰ اگلے جمعہ سے جیسا کہ ہم جانتے ہیں جلسہ سالانہ برطانیہ شروع ہو رہا ہے اس لئے دور دراز ممالک سے مہمانوں کی آمد شروع ہو گئی ہے۔یہ مہمان جماعتی نظام کے تحت بھی ٹھہرے ہوئے ہیں یا ٹھہریں گے اور گھروں میں بھی۔ان مہمانوں کو خاص طور پر ڈیوٹی دینے والے کارکنان کو بہت زیادہ اہمیت دینی چاہئے۔اور اللہ تعالیٰ کی خاطر سفر اختیار کرنے والے مسیح محمدی کے ان مہمانوں کی حتی المقدور مہمان نوازی کا حق ادا کرنا چاہئے۔اور اس کے لئے کوشش کرنی چاہئے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب دنیا کے اُن ممالک میں جہاں جماعتیں بڑی ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے لنگر کا بھی بڑا وسیع انتظام قائم ہو گیا ہے۔اور یو کے بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے اُن ممالک میں سے ایک ہے بلکہ شاید اب تو ربوہ کے بعد اس وقت لنگر خانے کا سب سے زیادہ وسیع نظام یو کے میں ہی ہے۔اور ظاہر ہے کہ خلیفہ وقت کی یہاں موجودگی کی وجہ سے یہ وسعت ہوئی تھی لیکن یہاں جو ان مستقل لنگر چلانے والوں کی سب سے بڑی خوبی ہے ، وہ یہ ہے کہ تقریبا تمام یا بہت بڑی اکثریت volunteer ہیں جو سالوں سے بڑی خوشی سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے لنگر کے لئے وقت دے رہے ہیں۔گور بوہ اور قادیان کے لنگر بھی بڑے وسیع ہیں، لیکن وہاں با قاعدہ تنخواہ دار عملہ ہے۔لیکن یہاں کا لنگر مستقل بنیادوں پر volunteers کے ذریعے چل رہا ہے۔تو بہر حال یو۔کے جماعت نے مہمان نوازی کے اس مستقل فرض کو خوب نبھایا ہے اور نبھاتے چلے جار ہے ہیں۔اب جلسے کے دن ہیں، جلسے پر بھی ہمیشہ اس مہمان نوازی کے فریضے کو بڑی خوش اسلوبی سے ہمارے کارکنان