خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 348
خطبات مسرور جلد نهم 348 28 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 15 جولائی 2011ء خطبہ جمعہ فرمودہ 15 جولائی 2011ء بمطابق 15 وفا1390 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح لندن، (برطانیہ) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: مہمان نوازی کی اہمیت اللہ تعالیٰ کے نزدیک اتنی زیادہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک جگہ بلکہ زیادہ جگہ فرمایا کہ وَابْنَ السَّبِيلِ - (البقرة : 178) یعنی مسافروں کو اُن کا حق دو۔وَ ابْنَ السَّبِیلِ جو ہیں یہ مسافر ہیں۔فرمایا ان کو ان کا حق دو۔اور ایک دوسری جگہ حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ السلام کے ذکر میں فرمایا کہ جب مہمان اُن کے پاس آئے تو فوراً بُھنا ہوا بچھڑا اُن کو پیش کیا۔(ھود:70) پھر ہمارے آقا حضرت محمد رسول اللہ صل اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے اُسے چاہئے کہ وہ مہمان کی تکریم کرے۔(بخاری کتاب الادب باب اکرام الضيف و خدمته اياه بنفسه حدیث 6135) یعنی مہمان کی تکریم بھی اللہ اور یوم آخرت پر ایمان کے لئے ضروری ہے۔پس مہمان نوازی صرف ایک دنیاوی فریضہ ہی نہیں ہے بلکہ ایمان کی علامت بھی ہے اور ایک فرض ہے جس کا ادا کرنا بہر حال ضروری ہے۔تکریم کا مطلب ہے کہ بہت زیادہ عزت و احترام کرنا۔پھر ایک حدیث میں آپ نے فرمایا کہ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لانے والے مہمان کا جائز حق ادا کریں۔عرض کیا گیا کہ جائز حق کیا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ ایک دن اور رات مہمان نوازی۔بیشک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مہمان نوازی کے دنوں کی حد مقرر فرمائی ہے، فرمایا کہ تین دن تک مہمان نوازی فرض ہے تم پر۔(صحیح مسلم كتاب اللقطة باب الضيافة و نحوها حديث 4513) ایک دن تو کم از کم اُس کا حق ہے اور پھر جیسا کہ میں نے کہا کہ تین دن تک فرض بھی ہے۔لیکن بعض حالات میں کئی دن بلکہ دنوں سے بھی زیادہ لمبا عرصہ، آپ نے مہمان نوازی فرمائی ہے۔اور صحابہ کے سپر د بھی مہمان فرمائے۔