خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 350
350 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 جولائی 2011ء خطبات مسرور جلد نهم نبھاتے ہیں۔یہ باتیں میں صرف اس لئے کر رہا ہوں کہ یاد دہانی کروا دی جائے کیونکہ نئے آنے والے بھی اس میں شامل ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ اس سال بھی تمام کارکنان کو اس فرض کو ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اس مہمان نوازی سے جو ہمارے کارکنان کرتے ہیں یا ہمارے جلسے کے جو انتظامات ہوتے ہیں باہر سے آئے ہوئے غیر از جماعت اور غیر مسلم مہمان ہمیشہ متاثر ہوتے ہیں۔یہاں بھی اور دوسرے ممالک میں بھی۔پس جو میز بان کارکنان ہیں آئندہ بھی ہمیشہ اپنے اس تاثر کو قائم رکھنے کی کوشش کریں جو تبلیغ کا ذریعہ بنتا ہے۔ایک لحاظ سے ہر کارکن جب وہ ڈیوٹی ادا کر رہا ہوتا ہے احمدیت کی عملی تبلیغ کا ذریعہ بن رہا ہوتا ہے۔اور یہ ہر کار کن کے لئے ایک بہت بڑا اعزاز ہے۔اللہ تعالیٰ تمام کارکنان کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔اس انگر خانے کے علاوہ بھی دوسری ڈیوٹیاں بھی ہیں اُن کا بھی حتی الوسع حق ادا کرنے کی پوری کوشش کرنی چاہئے۔جو جو کام کسی کے سپر د کئے گئے ہیں کسی کو تفویض کئے گئے ہیں اُن کی پوری ادا ئیگی کریں اور پوری ذمہ واری سے اُس کی ادائیگی ہونی چاہئے۔ہر کام ، ہر ڈیوٹی، ہر فرض جو کسی کے سپر د کیا گیا ہے اُس کو معمولی نہیں سمجھنا چاہئے۔ہر ایک کی ذمہ داری ہے۔ہر جگہ پر اگر ہر ڈیوٹی کو ایک اہمیت دی جائے گی تو تبھی پورا نظام جو ہے وہ صحیح لائنوں پر چل سکے گا۔اس لئے اس بارے میں ہر کارکن کو ہمیشہ خیال رکھنا چاہئے تا کہ کسی بھی جگہ کسی بھی شعبہ میں کسی کے کام میں کمی کی وجہ سے ، فرض کی ادائیگی میں کمی کی وجہ سے ، کسی مہمان کو تکلیف نہ ہو۔پس یہ بنیادی بات ہمیشہ ہر کارکن کو یا درکھنی چاہئے۔ان باتوں کے بعد اب میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مہمان نوازی کے متفرق واقعات آپ کے سامنے پیش کروں گا جو میں نے رجسٹر روایات صحابہ سے لئے ہیں۔لیکن ہر روایت میں ایک چیز مشترک نظر آتی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مہمان کا بڑا احترام کیا کرتے تھے۔ہر ایک کی مہمان نوازی انتہائی عزت و احترام سے کرتے تھے۔اکرام ضیف کا بڑا خیال رکھا کرتے تھے۔حضرت شیخ اصغر علی صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ولد شیخ بدر الدین صاحب کہتے ہیں کہ حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام مہمانوں کی خاطر تواضع کا خود بہت خیال فرمایا کرتے تھے )۔بھائی حافظ حامد علی صاحب مرحوم کو اس طرف توجہ دلانے کے علاوہ خود بھی خاص واقفیت اس پہلو میں رکھا کرتے تھے )۔اور مہمانوں کی حیثیت کے مطابق کھانا بہم پہنچانے کا اہتمام ہوا کرتا تھا۔غالباً 1902ء میں جب میں ایمن آباد سے قادیان دارالامان آرہا تھا تو مرحوم و مغفور سید ناصر شاہ صاحب لاہور اسٹیشن پر جس کمرہ انٹر کلاس میں قادیان آنے کے واسطے بیٹھے ہوئے تھے اس میں اتفاق سے میں بھی آ بیٹھا اور ہم دونوں اکٹھے آئے۔لاہور سے بارش ہونی شروع ہوئی اور جب گاڑی بٹالہ پہنچی تو زور کی بارش تھی۔اترتے ہی ہم نے مسافر خانہ میں ہی یگہ کرائے پر کیا اور روانہ ہوئے۔بارش شاید قادیان کے موڑ پر پہنچنے کے بعد بند ہوئی تھی۔دارالامان پہنچنے پر ہم دونوں کو حضرت اقدس کے حکم سے اُس کمرہ میں جگہ