خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 27
خطبات مسرور جلد نهم 3 27 27 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 21 جنوری 2011ء خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 جنوری 2011ء بمطابق 21 صلح 1390 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح ،لندن (برطانیہ) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: آج کل پر لیس اور دوسرا الیکٹرونک میڈیا، انٹر نیٹ وغیرہ جو ہے، اس پر مسلم اور غیر مسلم دنیا میں ایک موضوع بڑی شدت سے موضوع بحث بنا ہوا ہے اور یہ ہے ناموس رسالت کی پاسداری یا توہین رسالت کا قانون۔ایک سچے مسلمان کے لئے جو حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر آنحضرت صلی علی کم پر ایمان لاتا ہے اس کے لئے سخت بے چینی کا باعث ہے کہ کسی بھی رسول کی کسی بھی اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے کی اہانت کی جائے اور اس کی ناموس پر کوئی حملہ کیا جائے۔اور جب خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفی صلی للی یکم کی ذات کا سوال ہو جنہیں خدا تعالیٰ نے افضل الرسل فرمایا ہے تو ایک حقیقی مسلمان بے چین ہو جاتا ہے۔وہ اپنی گردن تو کٹوا سکتا ہے ، اپنے بچوں کو اپنے سامنے قتل ہوتے ہوئے تو دیکھ سکتا ہے، اپنے مال کو لٹتے ہوئے دیکھ سکتا ہے لیکن اپنے آقا و مولیٰ کی توہین تو ایک طرف، کوئی ہلکا سا ایسا لفظ بھی نہیں سن سکتا جس میں سے کسی قسم کی بے ادبی کا ہلکا سا بھی شائبہ ہو۔بہر حال جیسا کہ میں نے کہا مسلم دنیا میں، خاص طور پر پاکستان میں بعض حالات کی وجہ سے یہ موضوع بڑا نازک موڑ اختیار کر گیا ہے اور اس وجہ سے دنیا کی نظریں آج کل پاکستان پر گڑی ہوئی ہیں۔علاوہ اور بہت ساری وجوہات کے یہ ایک بہت بڑی وجہ ہے۔اور مغربی ممالک کے بعض سر بر اہان بھی اور پوپ بھی اس حوالے سے پاکستان کی حکومت سے مطالبات کر رہے ہیں۔آج کل یہ مغربی یا ترقی یافتہ کہلانے والے ممالک پریس میں مسلمانوں کو اور اسلام کو ایک بھیانک، شدت پسند ، عدم برداشت سے پُر گروہ اور مذہب کے طور پر پیش کرتے ہیں اور دنیا میں پاکستان، افغانستان یا بعض اور مسلم ممالک کی مثالیں اس حوالے سے بہت زیادہ دی جانے لگی ہیں۔بہر حال میں اس وقت اس بحث میں نہیں پڑ رہا کہ ناموس رسالت کے قانون کی مسلمانوں کے نزدیک کتنی اہمیت ہے؟ اور اس کی کیا قانونی شکل ہونی چاہئے؟ یا اس حوالے سے غیر مسلم دنیا کیا فوائد حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے ؟ اور بعض حالات میں مسلمانوں کے جذبات سے کھیل رہی ہے۔