خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 28 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 28

خطبات مسرور جلد نهم 28 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 جنوری 2011ء میں تو آج صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ میرے سید و مولیٰ حضرت محمد مصطفی صلی ا یکم کی عزت و ناموس پر اگر کوئی ہاتھ ڈالنے کی ہلکی سی بھی کوشش کرے گا تو وہ خدا تعالیٰ کے اس فرمان کہ إِنَّا كَفَيْنَكَ الْمُسْتَهْزِعِينَ (الحجر:96)۔یقینا ہم استہزاء کرنے والوں کے مقابل پر تجھے بہت کافی ہیں، کی گرفت میں آجائے گا اور اپنی دنیا و آخرت برباد کر لے گا۔میرے آقائے دو جہان کا مقام تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کی عزت و مرتبے کی ہر آن اس طرح حفاظت فرما رہا ہے کہ جس تک دنیا والوں کی سوچ بھی نہیں پہنچ سکتی۔آپ صلی للی کم کے مقام ، آپ صلی ایم کے مرتبے ، آپ کی عزت کو ہر لمحہ بلند تر کرتے چلے جانے کو اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں یوں فرمایا ہے۔فرماتا ہے اِنَّ اللهَ وَمَلَيكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ( الاحزاب : 57) یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے سارے فرشتے نبی کریم پر درود بھیجتے ہیں۔پس یہ ہے وہ مقام جو صرف اور صرف آپ کو ملا ہے۔یہ وہ الفاظ ہیں جو کسی اور نبی کی شان میں استعمال نہیں ہوئے۔اور اس مقام کو اس زمانے میں سب سے زیادہ آنحضرت کے عاشق صادق نے سمجھا ہے اور ہمیں بتایا ہے۔آپ علیہ السلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : ”ہمارے سید و مولیٰ حضرت محمد رسول اللہ صلی علی کر ک ہی صدق و وفاد دیکھئے۔آپ نے ہر قسم کی بد تحریک کا مقابلہ کیا۔طرح طرح کے مصائب و تکالیف اٹھائے لیکن پر واہ نہ کی۔یہی صدق و وفا تھا جس کے باعث اللہ تعالیٰ نے فضل کیا۔اسی لئے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔إِنَّ اللهَ وَ مَليكتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ - يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوْا عَلَيْهِ وَ سلموا تسليمًا ( الاحزاب : 57) - ترجمہ : اللہ تعالیٰ اور اس کے تمام فرشتے رسول پر درود بھیجتے ہیں۔اے ایمان والو! تم درود و سلام بھیجو نبی پر “۔فرمایا کہ: ”اس آیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ رسولِ اکرم کے اعمال ایسے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے اُن کی تعریف یا اوصاف کی تحدید کرنے کے لئے کوئی لفظ خاص نہ فرمایا۔لفظ تو مل سکتے تھے لیکن خود استعمال نہ کئے۔یعنی آپ کے اعمالِ صالحہ کی تعریف تحدید سے بیرون تھی۔اس قسم کی آیت کسی اور نبی کی شان میں استعمال نہ کی۔آپ کی روح میں وہ صدق و وفا تھا اور آپ کے اعمال خدا کی نگاہ میں اس قدر پسندیدہ تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ کے لئے یہ حکم دیا کہ آئندہ لوگ شکر گزاری کے طور پر درود بھیجیں“۔( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 23،24 مطبوعہ ربوہ) پس آج یہ صدق و وفا ہے جس کا اُسوہ ہمارے سامنے آنحضرت صلی للی رام نے قائم فرمایا ہے۔یہ صدق و وفا کا تعلق آنحضرت صلی الم نے کس سے دکھایا؟ یہ تعلق اپنے پیدا کرنے والے خدا سے دکھایا۔پس اگر ہم نے آنحضرت صلی علیکم کی پیروی کرنی ہے اور آپ کی اُمت کے ان افراد میں شامل ہونا ہے جو مومن ہونے کا حقیقی حق ادا کرنے والے ہیں تو پھر ہمیں صدق و وفا کے ساتھ اُن باتوں پر عمل کرنے کی ضرورت ہے جن کا حکم ہمیں خدا تعالیٰ