خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 271 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 271

271 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 27 مئی 2011ء خطبات مسرور جلد نهم میں بگڑ نہ جانا۔اگر دوسری قدرت کا فیض پاتا ہے تو پھر اس عرصے میں اکٹھے رہو ، دعائیں کرتے رہو اور خلیفہ کو منتخب کرو۔اس بات سے یہ غلطی نہیں لگنی چاہئے کہ آپ نے فرمایا کہ جماعت کے بزرگ جو نفس پاک رکھتے ہیں میرے نام پر لوگوں سے بیعت لیں۔گویا خلافت ایک شخص سے وابستہ نہیں بلکہ افراد کے مجموعے سے وابستہ ہے۔اس کو بہانہ بناکر غیر مبائعین انجمن کو بالا سمجھنے لگ گئے تھے جبکہ اس کی وضاحت آپ علیہ السلام نے اسی کے حاشیہ میں فرما دی ہے کہ ”ایسے لوگوں کا انتخاب مومنوں کے اتفاق رائے پر ہو گا “۔فرمایا کہ ایسے لوگوں کا انتخاب مومنوں کے اتفاق رائے پر ہو گا۔پس جس شخص کی نسبت یہاں پھر واحد کا صیغہ آ گیا) ”جس شخص کی نسبت چالیس مومن اتفاق کریں گے کہ وہ اس بات کے لائق ہے کہ میرے نام پر لوگوں سے بیعت لے وہ بیعت لینے کا مجاز ہو گا“۔( یہاں جمع نہیں آئی۔پھر آگے ہے کہ وہ شخص بیعت لے گا) اور چاہئے کہ وہ اپنے تئیں دوسروں کے لئے نمونہ بنادے“۔کسی انجمن کے نمونہ بنانے کا ذکر نہیں ہے بلکہ وہ شخص نمونہ بنے۔(رساله الوصیت، روحانی خزائن جلد نمبر 20 ، صفحہ 306 حاشیہ) پس جہاں جمع کا صیغہ استعمال کیا وہاں کوئی انجمن نہیں ہے بلکہ خلفاء کے بارے میں فرمایا ہے کہ جو آئندہ آنے والے خلفاء ہیں وہ یہ بیعت لیں گے۔پھر اس اصول کو مد نظر رکھتے ہوئے جماعتی نظام میں انتخاب خلافت کے لئے انتخاب خلافت کی ایک مجلس قائم ہے جس کے تحت خلافت ثانیہ کے بعد اب تک انتخاب خلافت عمل میں آتا ہے۔اب اگر یہ سوال ہے کہ اس بات کی کیا دلیل ہے کہ یہ انتخاب اللہ تعالیٰ کا ہے ؟ تو اس کے لئے اللہ تعالیٰ کی فعلی شہادت اور تائیدات اور افراد جماعت کے رویائے صالحہ جو مختلف افراد کو اللہ تعالیٰ دکھاتا ہے وہ کافی ہیں۔پھر خلیفہ وقت کے حکموں پر عمل کرنا اور دل سے عمل کرنا، اور دلوں کا خلیفہ وقت کی تائید میں پھر نا یہ سب باتیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہونے کی دلیل ہیں۔پہلے میں اس ضمن میں مثالیں بھی دے آیا ہوں کہ دشمن کی کیا کوشش رہی ہے؟ لیکن اللہ تعالیٰ کی زبر دست قدرت نے کیا نشان دکھائے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنے رسالے میں مزید نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: اور چاہئے کہ تم بھی ہمدردی اور اپنے نفسوں کے پاک کرنے سے رُوح القدس سے حصہ لو کہ بجز روح القدس کے حقیقی تقویٰ حاصل نہیں ہو سکتی۔اور نفسانی جذبات کو بکلی چھوڑ کر خدا کی رضا کیلئے وہ راہ اختیار کر وجو اس سے زیادہ کوئی راہ تنگ نہ ہو۔دنیا کی لذتوں پر فریفتہ مت ہو کہ وہ خدا سے جدا کرتی ہیں اور خدا کیلئے تلخی کی زندگی اختیار کرو۔وہ درد جس سے خدا راضی ہو اُس لذت سے بہتر ہے جس سے خدا ناراض ہو جائے۔اور وہ شکست جس سے خدا راضی ہو اس فتح سے بہتر ہے جو موجب غضب الہی ہو۔اس محبت کو چھوڑ دوجو خدا کے غضب کے قریب کرے۔اگر تم صاف دل ہو کر اس کی طرف آجاؤ تو ہر ایک راہ میں وہ تمہاری مدد کرے گا اور کوئی دشمن تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔خدا کی رضا کو تم کسی طرح پاہی نہیں سکتے جب تک تم اپنی رضا چھوڑ کر ، اپنی لذات چھوڑ کر، اپنی عزت چھوڑ کر ، اپنا مال چھوڑ کر ، اپنی جان چھوڑ کر اس کی راہ میں وہ تلخی نہ اُٹھاؤ جو موت کا نظارہ تمہارے سامنے