خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 270 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 270

270 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 27 مئی 2011ء خطبات مسرور جلد نهم غلبہ دوں گا۔سوضرور ہے کہ تم پر میری جدائی کا دن آوے تا بعد اس کے وہ دن آوے جو دائمی وعدہ کا دن ہے۔وہ ہمارا خدا وعدوں کا سچا اور وفادار اور صادق خدا ہے۔وہ سب کچھ تمہیں دکھلائے گا جس کا اس نے وعدہ فرمایا ہے۔اگر چہ یہ دن دنیا کے آخری دن ہیں اور بہت بلائیں ہیں جن کے نزول کا وقت ہے پر ضرور ہے کہ یہ دنیا قائم رہے جب تک وہ تمام باتیں پوری نہ ہو جائیں جن کی خدا نے خبر دی۔(رساله الوصیت، روحانی خزائن جلد نمبر 20 صفحہ 305-306) پس خلافتِ احمدیہ کا وعدہ دائمی ہے اور بعد میں آنے والوں کے لئے ہے۔جو نظام خلافت سے جڑے رہیں گے ، اپنی کامل اطاعت کا اظہار کرتے رہیں گے ، خلافت سے اخلاص و وفا کا تعلق رکھیں گے وہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ پورا ہو تا دیکھتے رہیں گے۔دشمن اور بد فطرت انسانوں کی آنکھیں تو اندھی ہیں جو انہیں خدا تعالیٰ کی تائیدات کے نظارے نظر نہیں آتے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہم تو ہر لمحہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے نظارے دیکھ رہے ہیں۔اور اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ہماری نسبت جو وعدہ فرمایا ہے اُس کی نئی شان ہمیں ہر روز نظر آتی ہے۔دشمن کا زیادتی پر اتر آنا اور نہتوں پر ہتھیاروں سے حملے کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ دشمن کے پاس دلیل سے مقابلہ کرنے کی کوئی صورت نہیں ہے۔اور جماعت احمدیہ کا دلائل سے لوگوں کا منہ بند کرنا اللہ تعالیٰ کے وعدے کے پورا ہونے کی بھی دلیل ہے۔اُس نے فرمایا کہ میں اس جماعت کو جو تیرے پیرو ہیں قیامت تک دوسروں پر غلبہ دوں گا۔یہ غلبہ ان دلائل سے ہے جن کے رڈ کرنے کی کسی مخالف میں طاقت نہیں ہے۔پھر خلافتِ احمدیہ کا ذکر کرتے ہوئے دوبارہ آپ نے قدرت ثانیہ کا آنا بیان فرما کر اس کے قائم ہونے کا طریق بتایا ہے۔فرمایا کہ: میں خدا کی طرف سے ایک قدرت کے رنگ میں ظاہر ہوا اور میں خدا کی ایک مجسم قدرت ہوں۔اور میرے بعد بعض اور وجو د ہوں گے جو دوسری قدرت کا مظہر ہونگے۔سو تم خدا کی قدرت ثانی کے انتظار میں اکٹھے ہو کر دعا کرتے رہو۔اور چاہئے کہ ہر ایک صالحین کی جماعت ہر ایک ملک میں اکٹھے ہو کر دُعا میں لگے رہیں تا دوسری قدرت آسمان سے نازل ہو اور تمہیں دکھاوے کہ تمہارا خدا ایسا قادر خدا ہے۔اپنی موت کو قریب سمجھو تم نہیں جانتے کہ کس وقت وہ گھڑی آجائیگی۔فرمایا اور چاہیئے کہ جماعت کے بزرگ جو نفس پاک رکھتے ہیں میرے نام پر میرے بعد لوگوں سے بیعت لیں۔خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ ان تمام روحوں کو جو زمین کی متفرق آبادیوں میں آباد ہیں کیا یورپ اور کیا ایشیا۔ان سب کو جو نیک فطرت رکھتے ہیں توحید کی طرف کھینچے اور اپنے بندوں کو دین واحد پر جمع کرے۔یہی خدا تعالیٰ کا مقصد ہے جس کیلئے میں دنیا میں بھیجا گیا۔سو تم اس مقصد کی پیروی کرو۔مگر نرمی اور اخلاق اور دُعاؤں پر زور دینے سے۔اور جب تک کوئی خدا سے روح القدس پاکر کھڑا نہ ہو سب میرے بعد مل کر کام (رساله الوصیت ، روحانی خزائن جلد نمبر 20 صفحہ 306-307) کرو“۔پس اس میں اپنے وصال کے بعد خلیفہ کے انتخاب تک اور ہر خلیفہ کے بعد اگلے خلیفہ کے انتخاب تک کا عرصہ بیان کر کے اس بات کی تلقین کی کہ یہ جو درمیانی عرصہ ہے، یہ جو چند دن، ایک دو دن بیچ میں وقفہ ہو ، اس