خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 272 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 272

خطبات مسرور جلد نهم 272 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 27 مئی 2011ء پیش کرتی ہے۔لیکن اگر تم ملٹی اٹھا لو گے تو ایک پیارے بچے کی طرح خدا کی گود میں آجاؤ گے اور تم ان راستبازوں کے وارث کئے جاؤ گے جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں۔اور ہر ایک نعمت کے دروازے تم پر کھولے جائیں گے۔“ (رساله الوصیت، روحانی خزائن جلد نمبر 20 صفحہ 307) پھر آپ نے فرمایا: یہ مت خیال کرو کہ خدا تمہیں ضائع کر دیگا۔تم خدا کے ہاتھ کا ایک بیج ہو جو زمین میں بویا گیا۔خدا فرماتا ہے کہ یہ بیج بڑھے گا اور پھولے گا اور ہر ایک طرف سے اس کی شاخیں نکلیں گی اور ایک بڑا درخت ہو جائے گا۔پس مبارک وہ جو خدا کی بات پر ایمان رکھے اور درمیان میں آنے والے ابتلاؤں سے نہ ڈرے کیونکہ ابتلاؤں کا آنا بھی ضروری ہے تا خدا تمہاری آزمائش کرے کہ کون اپنے دعوئی بیعت میں صادق اور کون کا ذب ہے۔وہ جو کسی ابتلا سے لغزش کھائے گا وہ کچھ بھی خدا کا نقصان نہیں کرے گا اور بد بختی اس کو جہنم تک پہنچائے گی۔اگر وہ پیدا نہ ہو تاتو اس کیلئے اچھا تھا۔مگر وہ سب لوگ جو اخیر تک صبر کریں گے اور اُن پر مصائب کے زلزلے آئیں گے اور حوادث کی آندھیاں چلیں گی اور قو میں جنسی اور ٹھٹھا کریں گی اور دنیا اُن سے سخت کراہت کے ساتھ پیش آئے گی وہ آخر فتحیاب ہوں گے اور برکتوں کے دروازے اُن پر کھولے جائیں گے۔خدا نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ میں اپنی جماعت کو اطلاع دوں کہ جو لوگ ایمان لائے ، ایسا ایمان جو اس کے ساتھ دنیا کی ملونی نہیں اور وہ ایمان نفاق یا بزدلی سے آلودہ نہیں اور وہ ایمان اطاعت کے کسی درجہ سے محروم نہیں، ایسے لوگ خدا کے پسندیدہ لوگ ہیں۔اور خدا فرماتا ہے کہ وہی ہیں جن کا قدم صدق کا قدم ہے۔“ (رسالہ الوصیت ، روحانی خزائن جلد نمبر 20 صفحہ 309) اللہ تعالیٰ کے فضل سے آج جماعت احمدیہ میں دنیا کے ہر کونے میں، ہر ملک میں قربانیوں کے معیار بڑھتے چلے جارہے ہیں، اور اللہ کے فضل سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے جو وعدے ہیں اُن کو ہم پورا ہوتے دیکھ رہے ہیں۔احمدی کس جرآت سے اور کس قربانی کے جذبے سے اور کس ہمت سے جانی قربانیاں بھی پیش کر رہے ہیں اور مالی قربانیاں بھی پیش کرتے چلے جارہے ہیں۔لیکن یہ جو آپ کے اقتباسات ہیں، ان میں بعض اندار بھی ہیں اور خوشخبریاں بھی ہیں جو آپ نے خلافت اور جماعت سے منسلک رہنے والوں کو دی ہیں۔پس ہم میں سے ہر ایک کا کام ہے کہ ان خوشخبریوں سے حصہ پانے کے لئے، اللہ تعالیٰ کے وعدے سے فیض اٹھانے کے لئے خدا کی عظمت دلوں میں بٹھانے والے بنیں۔عملی طور پر خدا تعالیٰ کی توحید کا اظہار کرنے والے ہوں۔بنی نوع سے سچی ہمدردی کرنے والے ہوں۔دلوں کو بعضوں اور کینوں سے پاک کرنے والے ہوں۔ہر ایک نیکی کی راہ پر قدم مارنے والے ہوں۔اپنے ایمانوں کی حفاظت کرنے والے ہوں۔کامل اطاعت کا نمونہ دکھانے والے ہوں۔ایمان میں ترقی کرتے چلے جانے والے ہوں تا کہ خدا تعالیٰ کے نزدیک ہمارے قدم صدق کے قدم شمار ہوں اور ہم اُس کے وعدوں سے فیض پانے والے بنیں۔اس کتاب ”رسالہ الوصیت“ کے آخر میں آپ نے اُن تقویٰ شعار لوگوں اور ایمان میں بڑھنے والوں