خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 269 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 269

خطبات مسرور جلد نهم 269 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 27 مئی 2011ء پھر خلافت رابعہ کا دور آیا تو دشمن نے ایسا بھر پور وار کیا کہ اُس کے خیال میں اُس نے جماعت کو ختم کرنے کے لئے ایسا پکا ہاتھ ڈالا تھا کہ اس سے بچنانا ممکن تھا، کوئی راہ فرار نہیں تھی۔لیکن پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ اپنی شان کے ساتھ پورے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ دوسری مرتبہ اپنی زبر دست قدرت ظاہر کرتا ہے اور ظاہر کرے گا اور وہ ہوئی۔اور اُس زبر دست قدرت نے اُن مخالفین کی خاک اُڑا دی۔پھر خلافت خامسہ کا دور ہے۔اس میں بھی حسد کی آگ اور مخالفت نے شدت اختیار کرلی۔کمزور اور نہتے احمدیوں پر ظالمانہ حملے کر کے خون کی ایسی ظالمانہ ہولی کھیلی گئی جنہیں دیکھ کر یہ فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ یہ انسانوں کا کام ہے یا جانوروں سے بھی بد تر کسی مخلوق کا کام ہے۔پھر اندرونی طور پر جماعت کے ہمدرد بن کر جماعت کے اندر افتراق پیدا کرنے کی بھی بعض جگہ کوششیں ہوتی رہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق، اللہ تعالیٰ کی تائید یافتہ خلافت کی زبر دست قدرت اس کا مقابلہ کرتی رہی اور کر رہی ہے بلکہ اللہ تعالیٰ ہی اس کا مقابلہ کر رہا ہے۔میں تو ایک کمزور ناکارہ انسان ہوں۔میری کوئی حیثیت نہیں لیکن خلافت احمدیہ کو اُس خدا کی تائید و نصرت حاصل ہے جو قادر و توانا اور سب طاقتوں کا سر چشمہ ہے۔اور اُس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے بھی وعدہ کیا ہے کہ میں زبر دست قدرت دکھاؤں گا۔اور وہ دکھا رہا ہے اور دکھائے گا۔اور دشمن ہمیشہ اپنی چالا کیوں، اپنی ہو شیاریوں ، اپنے حملوں میں خائب و خاسر ہو تا چلا جائے گا اور ہو رہا ہے۔آج کل دشمن نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کے لئے الیکٹرانک میڈیا، انٹر نیٹ وغیرہ کے جو بھی مختلف ذرائع ہیں ، اُن کو استعمال کرنے کی کوشش کی ہے۔تو خلافت کی رہنمائی میں دنیا کے ہر ملک میں اللہ تعالیٰ نے نوجوانوں کی ایک ایسی فوج حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو عطا فرما دی ہے جو حضرت طلحہ کا کردار ادا کر رہے ہیں اور دشمن کے سامنے سینہ تان کر کھڑے ہیں۔بلکہ ایسے ایسے جواب دے رہے ہیں کہ بے اختیار اللہ تعالیٰ کی حمد دل میں پیدا ہوتی ہے اور اُس کے وعدوں پر یقین اور ایمان بڑھتا چلا جاتا ہے۔قدرتِ ثانیہ کے جاری رہنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہمیں تسلی دلاتے ہوئے پھر فرماتے ہیں کہ : ”سواے عزیزو! جبکہ قدیم سے سنت اللہ یہی ہے کہ خدا تعالیٰ دو قدر تیں دکھلاتا ہے تا مخالفوں کی دو جھوٹی خوشیوں کو پامال کر کے دکھلاوے۔سو اب ممکن نہیں ہے کہ خدا تعالیٰ اپنی قدیم سنت کو ترک کر دیوے۔اس لئے تم میری اس بات سے جو میں نے تمہارے پاس بیان کی غمگین مت ہو “ یعنی اپنی وفات کی اطلاع دی تھی ”اور تمہارے دل پریشان نہ ہو جائیں کیونکہ تمہارے لئے دوسری قدرت کا بھی دیکھناضروری ہے اور اس کا آنا تمہارے لئے بہتر ہے کیونکہ وہ دائمی ہے جس کا سلسلہ قیامت تک منقطع نہیں ہو گا۔اور وہ دوسری قدرت نہیں آسکتی جب تک میں نہ جاؤں۔لیکن میں جب جاؤں گا تو پھر خدا اُس دوسری قدرت کو تمہارے لئے بھیج دے گا جو ہمیشہ تمہارے ساتھ رہے گی۔جیسا کہ خدا تعالیٰ کا براہین احمدیہ میں وعدہ ہے۔اور وہ وعدہ میری ذات کی نسبت نہیں ہے بلکہ تمہاری نسبت وعدہ ہے جیسا کہ خدا فرماتا ہے کہ میں اس جماعت کو جو تیرے پیرو ہیں قیامت تک دوسروں پر