خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 268
268 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 27 مئی 2011ء خطبات مسرور جلد نهم خبر پا کر یہ اطلاع دی کہ اس طرح آفات آئیں گی، زلازل آئیں گے اور آج ہم دیکھتے ہیں کہ ہر قسم کی آفات نے دنیا کو گھیر ا ہوا ہے۔آج اُن لوگوں کو جو مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مخالفت کرنے والے ہیں چاہئے کہ خدا تعالیٰ کے اس فرستادہ کی باتوں پر غور کریں۔پھر اُن لوگوں کے لئے یہ خاص طور پر سوچنے کا مقام ہے جو ہر وقت جماعت احمدیہ کی مخالفت میں کمر بستہ ہیں کہ باوجود اُن کی تمام تر کوششوں کے جماعت کا ہر قدم ہر لمحے ترقی کی طرف بڑھ رہا ہے۔کیا یہ کسی انسان کا کام ہو سکتا ہے کہ اس طرح ترقی ہو رہی ہے اور لوگوں کے دلوں پر اثر ہو رہا ہے۔اللہ تعالیٰ ہی ہے جو دلوں کو زمانے کے امام کی طرف پھیر رہا ہے۔آخر کب تک یہ لوگ خدا تعالیٰ سے لڑیں گے۔سوائے اس کے کہ اپنی دنیا و عاقبت خراب کریں ان کو کچھ حاصل نہیں ہو گا۔بڑے واضح طور پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس بارے میں فرما چکے ہیں۔تمہاری آنکھیں گل جائیں، تمہارے ناک زمین پر رگڑ رگڑ کر گل جائیں تب بھی تم میر اکچھ نہیں بگاڑ سکتے اور تمہاری دعائیں قبول نہیں ہوں گی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: یہ خدا تعالیٰ کی سنت ہے اور جب سے کہ اُس نے انسان کو زمین میں پیدا کیا ہمیشہ اس سنت کو وہ ظاہر کرتا رہا ہے کہ وہ اپنے نبیوں اور رسولوں کی مدد کرتا ہے اور اُن کو غلبہ دیتا ہے۔جیسا کہ وہ فرماتا ہے كَتَبَ اللهُ لاغلبنَّ انَا وَ رُسُلى (المجادلة: 22)۔اور غلبہ سے مراد یہ ہے کہ جیسا کہ رسولوں اور نبیوں کا یہ منشاء ہوتا ہے کہ خدا کی حجت زمین پر پوری ہو جائے اور اُس کا کوئی مقابلہ نہ کر سکے۔اسی طرح خدا تعالیٰ قومی نشانوں کے ساتھ اُن کی سچائی ظاہر کر دیتا ہے اور جس راستبازی کو وہ دنیا میں پھیلانا چاہتے ہیں اس کی تخم ریزی انہی کے ہاتھ سے کر دیتا ہے لیکن اس کی پوری تکمیل اُن کے ہاتھ سے نہیں کرتا، بلکہ ایسے وقت میں اُن کو وفات دے کر جو بظاہر ایک نا کامی کا خوف اپنے ساتھ رکھتا ہے مخالفوں کو جنسی اور ٹھٹھے اور طعن اور تشنیع کا موقعہ دے دیتا ہے۔اور جب وہ ہنسی ٹھٹھا کر چکتے ہیں تو پھر ایک دوسرا ہاتھ اپنی قدرت کا دکھاتا ہے اور ایسے اسباب پیدا کر دیتا ہے جن کے ذریعہ سے وہ مقاصد جو کسی قدر نا تمام رہ گئے تھے اپنے کمال کو پہنچتے ہیں“۔(رسالہ الوصیت، روحانی خزائن جلد نمبر 20 صفحہ 304) اور پھر آگے اپنی تحریر میں اللہ تعالیٰ کی اس دوسری قدرت کے بارے میں فرمایا کہ دوسری مرتبہ اپنی زبر دست قدرت ظاہر کرتا ہے۔(ماخوذ از رساله الوصیت روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 305) آج جماعت احمدیہ کی تاریخ گواہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو وعدہ فرمایا ہے ، جو پیشگوئی فرمائی ہے، جس کا اعلان زمانے کے امام کے ذریعہ سے کروایا وہ ہر آن اور ہر لمحہ ایک نئی شان سے پورا ہو رہا ہے۔چاہے وہ خلافت اولیٰ کا دور تھا جس میں بیرونی مخالفتوں کے علاوہ اندرونی فتنوں نے بھی سر اُٹھانا شروع کر دیا تھا۔یا خلافت ثانیہ کا دور تھا جس میں انتخاب خلافت سے لے کر تقریباً آخر تک جو خلافت ثانیہ کا زمانہ تھا، مختلف فتنے اندرونی طور پر بھی اُٹھتے رہے۔جماعت کا ایک حصہ علیحدہ بھی ہوا۔پھر بیرونی مخالفتوں نے بھی شدید حملوں کی صورت اختیار کر لی لیکن جماعت کی ترقی کے قدم نہیں رُکے۔پھر خلافت ثالثہ میں بھی بیرونی حملوں کی شدت اور بعض اندرونی فتنوں نے سر اُٹھایا لیکن جماعت ترقی کرتی چلی گئی۔اور جماعت کو خلافت احمد یہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے آگے ہی بڑھاتی رہی۔