خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 267
267 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 27 مئی 2011ء خطبات مسرور جلد نهم اپنی فصلوں کی زکوۃ دے کر جایا کرتے تھے کہ آپ صحیح استعمال کریں گے یا وہاں مشن میں جمع کرا دیا کرتے تھے۔کئی زمیندار میرے واقف تھے وہ جنس کی صورت میں مجھے دے جایا کرتے تھے کہ آپ جمع کروادیں۔کیونکہ وہ کہتے تھے کہ ہم اگر یہ زکوۃ اپنے مولویوں کو دیں گے ، اماموں کو دیں گے تو وہ کھا جائیں گے اور اس کا صحیح استعمال نہیں ہو گا۔بلکہ آج بھی مختلف جگہوں سے مجھے جماعتوں کی طرف سے یہ خط آتے ہیں کہ غیر از جماعت زکوۃ یا صدقہ دینا چاہتے ہیں تو اس بارے میں کیا ہدایت ہے۔جہاں تک زکوۃ اور صدقات کا تعلق ہے جماعت اُن کو لے سکتی ہے اور لیتی ہے لیکن دوسرے طوعی اور لازمی چندے جو ہیں وہ صرف احمدیوں سے لئے جاتے ہیں۔بہر حال زکوۃ کا نظام بھی خلافت کے نظام سے وابستہ ہے۔آخر پر اس میں پھر اطاعت کا مضمون بیان کیا گیا ہے۔پس اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول سے حقیقی تعلق اور اُس کے نتیجے میں خلافت سے تعلق کا نقطہ اور محور کامل اطاعت ہے ، جب یہ ہو گی تو مومن انعامات کا وارث بنتا چلا جائے گا۔اب میں رسالہ الوصیت کے حوالے سے کچھ بیان کروں گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اللہ تعالیٰ کے اس وعدے اور اس پیشگوئی کا اعلان فرمارہے ہیں کہ یہاں یہ وعدہ بھی ہے اور پیشگوئی بھی کہ آپ کی وفات قریب ہے۔ایک پیشگوئی تھی کہ آپ کی وفات قریب ہے۔آپ کو اطلاع دی جارہی تھی اور ساتھ یہ پیشگوئی تھی اور اطلاع کے ساتھ وعدہ کیا جار ہا تھا کہ وفات کا وقت تو قریب ہے لیکن ہم ایسے تمام اعتراض ڈور اور دفع کر دیں گے جن سے آپ علیہ السلام کی رسوائی مطلوب ہو۔اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں تجھ سے راضی ہوں گا۔پھر فرمایا کھلے کھلے نشان تیری تصدیق کے لئے ہمیشہ موجود رکھیں گے۔دنیا نے دیکھا کہ آپ کی رسوائی کے جو طلبگار تھے اور کوشش کرنے والے تھے وہ رسوا ہوئے۔اُن کا نام و نشان دنیا سے مٹ گیا۔آج ان کو یاد کرنے والا کوئی نہیں۔گالیاں دینے والے ، الزام لگانے والے مر کھپ گئے لیکن آپ کی جماعت دنیا میں پھیلتی چلی جارہی ہے۔نشانات کا جو سلسلہ آپ کی زندگی میں شروع ہوا تھا آج بھی جاری ہے۔لاکھوں بیعتیں جو ہر سال ہوتی ہیں اُن میں سے اکثر خدا تعالیٰ کی طرف سے رہنمائی ملنے پر ہوتی ہیں۔یہ اللہ تعالیٰ کے تائیدی نشانات ہیں۔پس یہ خدا تعالیٰ کی تائیدات ہیں جو آپ کی صداقت کا ثبوت ہیں۔پھر آپ نے فرمایا کہ: ”خدا کا کلام مجھے فرماتا ہے کہ کئی حوادث ظاہر ہوں گے اور کئی آفتیں زمین پر اتریں گی۔کچھ تو ان میں سے میری زندگی میں ظہور میں آجائیں گی اور کچھ میرے بعد ظہور میں آئیں گی۔اور وہ اس سلسلہ کو پوری ترقی دے گا۔کچھ میرے ہاتھ سے اور کچھ میرے بعد “۔(رساله الوصیت، روحانی خزائن جلد نمبر 20 صفحہ 303-304) پس یہ وعدہ ہم آج تک پورا ہو تا دیکھ رہے ہیں۔یہ پیشگوئی ہم پوری ہوتی دیکھ رہے ہیں۔آفات کا زور بھی اب زیادہ ہو تا چلا جارہا ہے۔روزانہ خبروں میں کسی نہ کسی ملک میں قدرتی آفات کی خبر ہوتی ہے۔کوئی نہ کوئی ملک قدرتی آفات کا نشانہ بن رہا ہوتا ہے۔ان آفات کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پیشگوئی فرما چکے ہیں کہ یہ آئیں گی۔کیا یہ باتیں عقل رکھنے والوں کے لئے کافی نہیں۔سوچیں کہ ایک دعویدار نے خدا تعالیٰ سے